
پولیس مظاہرین نے حکومت کو خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو پانچ فروری سے اسلحہ چھوڑ احتجاج شروع کریں گے
حکومتِ بلوچستان نے صوبائی دارلحکومت کوئٹہ میں امن وامان برقرار رکھنے کی ذمہ داری فرنٹیئر کور کو سونپ دی ہے۔
حکومت نے یہ اقدام پیر کے روز سینکڑوں پولیس اہلکاروں کی جانب سے اس احتجاج کے بعد کیا ہے جس میں پولیس نے اپنے مطالبات کے حق میں نہ صر ف غیر قانونی طور پر گورنر اور وزیر اعلیٰ ہاوس میں داخل ہوئے تھے بلکہ دن بھر شہر کے مختلف مقامات پر ٹائر جلانے کے ساتھ ساتھ ہوائی فائرنگ کرکے شہریوں کو خوف وہراس میں مبتلاکر رکھا تھا۔
کلِک تنخواہ بڑھائیں، پولیس والوں کا احتجاج
فرنٹیئرکور نے منگل کے روز کوئٹہ شہر میں گورنر ہاؤس، وزیر اعلیٰ ہاؤس کے ساتھ ساتھ دیگر حساس مقامات پر ایف سی کے اہلکاروں کو تعینات کردیا ہے جبکہ صوبائی حکومت نے ڈیوٹی دینے والے پولیس اہلکاروں سے اسلحہ لے کر ان کے ہاتھوں میں ڈنڈے تھما دیے ہیں۔
احتجاج کرنے والے پولیس اہلکاروں کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے مقابلے میں سندھ، پنجاب اور صوبہ سرحد کی پولیس کی تنخواؤں میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے لیکن وزیراعظم کے اعلان کے باوجود حکومتِ بلوچستان نے ان کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا ہے۔
پولیس مظاہرین نے حکومت کو خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو پانچ فروری سے اسلحہ چھوڑ احتجاج شروع کریں گے۔
یاد رہے کہ اس مظاہرے کے بعد حکومتِ بلوچستان نے کیپٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) کوئٹہ عابد حسین نتکانی کو فوری طور پر ایس اینڈ ڈی اے جی میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی تھی جبکہ ریجنل پولیس آفیسر سبی غلام شبیر کو سی سی پی او کوئٹہ کا اضافی چارج دے دیا تھا۔
اسی طرح ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس (آپریشن) شاہد نظام درانی کو بھی فوری طور پرایس اینڈ جی اے ڈی میں رپورٹ کرنے اور ریجنل پولیس آفیسر خضدار آصف اعجاز شیخ کو ڈی آئی جی (آپریشن )کوئٹہ کا اضافی چارج دینے کے احکامات جاری کئے تھے۔
BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔