
ہلاک ہونے والوں میں ایک خاتون اور ایک مرد کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔
کراچی میں نامعلوم افراد کی فائرنگ میں آٹھ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ جس کے بعد شہر کے پرانے علاقوں میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ ہلاک ہونے والوں کی میتوں کے ساتھ وزیر اعلیٰ ہاوس کے قریب دھرنا دیا گیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق ہلاکتوں کا یہ واقعہ جنوبی کراچی کے علاقے عثمان آباد میں پیش آیا ہے۔ صبح کو دھوبی گھاٹ کے علاقے سے ایک نوجوان عامر کی سر کٹی ہوئی لاش ملی، جس کے بعد علاقے میں حالات کشیدہ ہوگئے۔
شام کو نامعلوم مسلح افراد نے گولیمار اور عثمان آباد میں فائرنگ کی جس سے سات افراد ہلاک ہوگئے۔
ہلاک ہونے والوں کی شناخت یونس بلوچ، عثمان بلوچ، شاکربلوچ، بابل بلوچ اور نادر بلوچ کے ناموں سے ہوئی ہے جبکہ ایک خاتون اور ایک مرد کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔ فائرنگ سے کچھ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جنہیں سول ہسپتال پہنچایا گیا ہے۔
واقعے کے بعد لیاری، گولیمار، عثمان آباد، اور گارڈن سمیت شہر کے پرانے علاقوں میں فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ان علاقوں میں کاروبار بند ہوگیا اور لوگ گھروں تک محدود ہو کر رہ گئے۔
سول ہسپتال میں موجود ایک چشم دید گواہ نے جو جائے وقوع کے قریب موجود مسجد کے موذن ہیں، بی بی سی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں سے کچھ تو اپنے گھر کے باہر بیٹھے تھے جب ان میں سے دو اپنے رکشے کی مرمت کر رہے تھے کہ اچانک موٹر سائیکلوں پر سوار کچھ مسلح افراد آئے اور فائرنگ شروع کر دی۔
ان کے مطابق وہ اذان دینے پہنچے تھے جس کے بعد انہوں نے باہر نکلنے کی کوشش کی مگر کچھ لوگوں نے انہیں روک لیا۔
ہسپتال میں موجود مشتعل افراد کا کہنا تھا کہ راستے جاتے ہوئے لوگوں کو بھی پکڑ پکڑ ہلاک کیا گیا، جس میں گدھا گاڑی والے اور مزدوری پیشہ افراد شامل ہیں۔
واقعے کے بعد لیاری، گولیمار، عثمان آباد، گارڈن سمیت کئی علاقوں میں فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا، جس کے بعد علاقوں میں کاروبار بند ہوگیا۔

میڈیا ٹرائیل کرکے لیاری کی معیشت تباہ کردی گئی اور اب لوگوں کا جینا بھی مشکل کر دیا گیا ہے۔
پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے کونسلر طفر بلوچ ان واقعات کو سازش قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’بلوچ ہونا جرم ہوگیا ہے لیاری کا میڈیا ٹرائیل کرکے وہاں کی معیشت تباہ کردی گئی اب لوگوں کا جینا بھی مشکل کر دیا گیا ہے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی سے تعلق ان کا جرم ہے اگر آج بلوچ متحدہ میں شمولیت اختیار کرلیں تو پھر ان کے حقوق کی بھی بات ہوگی، علاقے میں ترقی بھی ہوگی اور نوکری بھی فراہم کی جائے گی۔
ظفر بلوچ کا کہنا تھا کہ ان کا متحدہ سے کوئی جھگڑا نہیں ہے لیکن ان کا کارکن ہلاک ہوتا ہے تو انہیں جو بھی مخالف نزدیک نظر آتا ہے، اس سے بدلہ لیا جاتا ہے۔
متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما اور سندھ اسمبلی میں ڈپٹی پارلمانی رہنما فیصل سبزواری ان الزامات کو رد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ متحدہ خود ٹارگٹ کلنگ سے متاثر ہو رہی ہے۔
’ہماری جماعت کے لوگ لیاری میں ہلاک ہو رہے ہیں صرف دو ڈھائی ماہ میں تیرہ کارکنوں کو ہلاک کیا گیا ہے اور آج ظلم کی انتہا ہوگئی جب ایک سرگرم کارکن محمد عامر کی گردن کاٹ دی گئی‘۔
فیصل سبز واری کے مطابق لیاری میں گینگ وار کے مجرم بستے ہیں جنہوں نے مقامی سیاسی تحفظ بھی حاصل کیا ہوا ہے وہ کبھی کوئی کمیٹی بناتے ہیں تو کبھی کچھ اور۔ شہر کے امن امان میں جو بگاڑ ہے اس کا منبع لیاری ہے۔
ہلاک ہونے والوں کی میتوں کے ساتھ وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے دھرنا دیا گیا ہے، جس میں خود پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے حکومت کے خلاف احتجاج کیا۔
دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے متحدہ لیاری اور اورنگی ٹاؤن کے کارکنان محمد عامر اور مستحسن زیدی کی ٹارگٹ کلنگ کی مذمت کی ہے اور اسے دہشتگردوں کی وحشیانہ اور سفاکانہ کارروائی قرار دیا ہے ۔ اپنے ایک مشترکہ بیان میں ارکان رابطہ کمیٹی نے کہا ہے کہ دہشت گرد شہر کا امن تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور ایم کیو ایم کے کارکنوں کے متواتر قتل اسی سلسلے کی کڑی ہے ۔
رابطہ کمیٹی نے کہا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ایم کیو ایم کے تہتر کارکنوں اور ہمدردوں کو نشانہ بنایا جاچکا ہے۔
یاد رہے کہ کراچی میں گزشتہ دو سالوں سے سیاسی کارکنوں کی ٹارگٹ کلنگ جاری ہے۔ گزشتہ دنوں وزیر داخلہ رحمان ملک نے ان واقعات کی روک تھام کے لیے رینجرز کو انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت اختیارات دینے کا اعلان کیا تھا۔
دریں اثنا ایک نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے رحمان ملک نے اس واقعے کو ذاتی رنجش کا نتیجہ قرار دیا ہے اور کہا کہ یہ دو گروہوں کی چپلقش کا نتیجہ ہے۔
ہلاک ہونے والوں میں نادر بلوچ گٹر باغیچہ بچاؤ کمیٹی کے رہنما تھے۔ اس سے پہلے اسی کمیٹی کے روح رواں نثار بلوچ کو نومبر میں گولیمار کے علاقے میں ہلاک کیا گیا تھا۔ جس کے بعد اس باغیچے کو بلڈرز کے حوالے کرنے کے خلاف سرگرم اس کمیٹی کی قیادت نادر بلوچ نے سنبھالی تھی جنہیں جمعرات کی شام گولیمار میں قتل کر دیا گیا۔
دوسری جانب حکومتی خبر رساں ادارے اے پی پی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کا سختی سے نوٹس لیا ہے اور متعلقہ حکام کو فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
© 2012
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔