آخری وقت اشاعت:  جمعـء, 1 جنوری, 2010, 08:55 GMT 13:55 PST

سوات میں نیا آغاز، نئی امیدیں

سوات کی خواتین

سوات میں اب زندگی معمول پر آگئی ہے اور مستقل روشن نظر آتا ہے

پاکستان میں سوات کے علاقے میں طالبان کے خلاف فوجی آپریشن کے سبب دو ہزار نو میں لاکھوں لوگ بےگھر ہوئے تھے۔

اس علاقے کے ایک ناظم منیر (ان کا فرضی نام) کہتے ہیں کہ گزشتہ سال مشکلات سے پر تھا لیکن مستقبل روشن لگتا ہے۔

مجھے یاد ہے کہ آج سے ایک برس قبل شام کے وقت جب میں گھر پہنچا تو پتہ چلا کہ طالبان نے ہمارے گاؤں کی چار خواتین، دو مرد اور ایک بچے کو ہلاک کردیا ہے۔ میں یہ واقعہ مرتے دم تک نہیں بھول سکتا۔ جو مظالم ہم پر ہوئے ہیں شاید دنیا میں وہ کہیں ناں ہوئے ہوں۔

ہم گھر کے باہر کھل کر بات بھی نہیں کر سکتے تھے کیونکہ طالبان کے جاسوس ہر جگہ ہوتے تھے۔ ہم موسیقی نہیں سن سکتے تھے، سیٹ لائٹ ڈشز ہٹانی پڑتی تھیں اور ٹی وی سیٹ یا تو توڑ دیے جاتے یا پھر بیچنا پڑتے تھے۔

آدمیوں کے لیے داڑھی بڑھانی ضروری تھی اور انہیں نماز کے لیے زبردستی مسجد جانا پڑتا تھا۔ بہت سی لڑکیوں کو طالبان سے شادی کرنے پر مجبور کیا جاتا اور بہت سی ایسی جن کے کردار پر شک و شبہات ہوں انہیں قتل کردیا جاتا تھا۔

یہ سال میرے لیے فائدہ مند تھا اور نقصان دہ بھی۔ فائدہ مند اس لیے کہ اس سال میری شادی ہوئی اور مجھے شدت پسندوں سے نجات ملی شاید ہمیشہ کے لیے۔ اور نقصان دہ اس لیے کہ میرا قریبی دوست مارا گیا اور مجھے اپنے گھر کو چھوڑنا پڑا۔ یہ سال دو ہزار آٹھ اور سات کی طرح بہت خراب تھا لیکن سب کچھ برا نہیں ہوتا اور ہم نے بہت کچھ سیکھا بھی۔

گھر سے باہر رہنے پر ہمیں امن کی قیمت معلوم ہوئی، ہم نے تعلیم کی اہمیت جانی اور پانی کی دستیابی کا مسئلہ سمجھا۔ ہم نے سیکھا کہ اللہ نے ہمیں جن برکتوں سے نوازا ہے ان کی ہم قدر نہیں کرتے۔

ہمیں ہمارے گھر بار یاد آئے اور ہم نے یہ سیکھا کہ اسلام اور شریعت کے نام پر اب ہمیں دھوکہ نہیں دیا جا سکتا۔ ہم نے ہمارے صوابی، مردان اور دیگر اضلاع کے بھائی بہنوں کی سخاوت دیکھی جنہوں نے مشکل وقت میں ہمارا بہت خیال رکھا۔

لیکن ان تمام مشکلات سے گزرنے کے بعد اب سوات میں حالات بہتر ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ سوات اب محفوظ ہے اور شدت پسند دوبارہ کبھی واپس نہیں آئیں گے۔ سکیورٹی فورسز نے ان کے نیٹ ورک کو پوری طرح تباہ کردیا ہے۔

کچھ لوگوں کو اب بھی شک ہے کہ شدت پسند دوبارہ واپس آجائیں گےاسکی وجہ یہ ہے کہ ملک کے کونے کونے میں دھماکے ہورہے ہیں۔ طالبان نے لوگوں پر بہت مظالم ڈھائے ہیں اور وہ خوف ان میں اب بھی برقرار ہے۔

لیکن سوات میں امن بحال ہوگیا ہے۔ صرف ہماری اسمبلی پر ایک حملے سے حالات خراب ضرور ہوئے ہیں۔ شدت پسند یہاں نہیں ہیں اور اگر ہیں تو بھی اس طرح نہیں جس طرح وہ پہلے ہتھیار اٹھائے ہوئے دیکھے جاتے تھے۔

ہم میوزک دوبارہ سن سکتے ہیں اور لڑکیان بغیر کسی مشکل کے سکول جا سکتی ہیں۔ سوات میں اب سب سے بڑی مشکل چیک پوسٹ پر غیر ضروری تلاشی کا عمل ہے۔ میں اسے غیر ضروری اس لیے کہتا ہوں کیونکہ اگر شدت پسندوں کو حملہ کرنا ہوگا تو وہ کھیت یا ندی کے ذریعہ بھی حملہ کر سکتے ہیں۔ لوگ اس مستقل تلاشی کے عمل سے خوش نہیں ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ یہ چیک پوسٹ جلدی ہٹ جائیں گی اور لوگ ہراساں نہیں کیے جائیں گے۔

ہمیں حکومت سے اور خاص طور پر فوج سے بہت امیدیں وابستہ ہیں۔ امید ہے کہ حکومت ہماری سڑکیں ، کالج اور سکولوں کی تعمیر جلد شروع کر دے گی اور شدت پسندوں نے جو ہم پہ ظلم کیے ہیں انہیں اس کی سخت سزا ملے گی۔

ہمارے یہاں تقریباً سبھی لوگ سوات کے مستقل روشن کے لیے پر امید ہیں۔ لیکن ہم پورے ملک کے لیے بھی فکر مند ہیں کیونکہ دھماکے بند نہیں ہو رہے ہیں۔

ہمارے یہاں نئے سال کے جشن منانے کی راویت نہیں ہے لیکن میں خود ذاتی طور نئے سال سے اچھی شروعات کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ میں جلدی اٹھتا ہوں، قرآن کی تلاوت کرتا ہوں اور پھر ڈیوٹی پر وقت سے پہنچتا ہوں اور وہی کرتا ہوں جو اچھی چیزیں ہیں۔ میں اس کہاوت میں یقین رکھتا ہوں کہ جس کا آغاز اچھا ہوتا ہے اس کا انجام بھی بہتر ہوتا ہے۔

bbc.co.uk navigation

BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔