
دونوں نے خنجراب سے چار اکتوبر کو امن مارچ کا آغاز کیا
گلگت سے امن کا پیغام لیکر نکلنے والے اصغر رومی اور اعجاز رومی نے سنیچر کو کراچی میں اپنے پیدل مارچ کا اختتام کیا۔ انہوں نے ستتر روز پیدل چل کر چھبیس سو کلو میٹر کا فاصلہ طے کیا۔
دونوں اب پاکستان اور بھارت میں دوستی کے لیے اسلام آباد سے دلی تک مارچ کرنے کے خواہش مند ہیں۔اصغر رومی گیارہویں جماعت جب کہ اعجاز رومی گریجوئیٹ ہیں۔ دونوں گلگت کے علاقے گوجال سے تعلق رکھتے ہیں اور مقامی طور پر سماجی سرگرمیوں میں مصروف رہے ہیں۔
اصغر رومی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں جاری شدت پسندی کے بارے میں مغربی میڈیا غلط تصور پیش کر رہا ہے اس لیے انہوں نے فیصلہ کیا کہ کچھ ایسا کیا جائے جس سے لوگوں کی توجہ امن کی طرف ہو۔
بہت سارے دوستوں کو اس بارے میں بتایا تو کچھ نے انھیں پاگل قرار دیا اور کچھ کا کہنا تھا کہ مرنے جا رہے ہو تو اکیلے جاؤ ہمیں کیوں ساتھ لیکر جانا چاہتے ہو۔ اس خیال سے جب اصغر رومی نے اپنے کزن اعجاز رومی کو آگاہ کیا تو وہ ان کے ساتھ چلنے پر راضی ہوگئے۔
غریب خاندان سے تعلق رکھنے والے دونوں نوجوانوں کو اس مشن کے لیے ایک طرف مالی مسائل کا سامنا تھا تو دوسری طرف تعلیمی مسائل بھی آڑے آ رہے تھے۔ دونوں کا کہنا ہے کہ خاندان کی طرف سے اجازت نہیں مل رہی تھی کیونکہ ملک کے جو حالات ہیں وہ اس سے پریشان تھے۔ مگر ان تمام مسائل کے باوجود انہوں نے ہمت نہ ہاری اور نکل پڑے۔
اعجاز رومی کے مطابق یہ بہت بڑی سرگرمی تھی کیونکہ یہ مارچ کافی دن جاری رہنا تھا جس سے بہت سے لوگوں کو امن کا پیغام دینا ممکن تھا اس لیے وہ اس مشن کے لیے تیار ہوگئے۔
غریب خاندان سے تعلق رکھنے والے دونوں نوجوانوں کو اس مشن کے لیے ایک طرف مالی مسائل کا سامنا تھا تو دوسری طرف تعلیمی مسائل بھی آڑے آ رہے تھے۔ دونوں کا کہنا ہے کہ خاندان کی طرف سے اجازت نہیں مل رہی تھی کیونکہ ملک کے جو حالات ہیں وہ اس سے پریشان تھے۔ مگر ان تمام مسائل کے باوجود انہوں نے ہمت نہ ہاری اور نکل پڑے۔
دونوں نے خنجراب سے چار اکتوبر کو امن مارچ کا آغاز کیا۔ وہ ہندوکش، ہمالیہ، قراقرم کے پہاڑی سلسلے کو عبور کرتے ہوئے وادی کاغان میں داخل ہوئے جہاں سے اسلام آباد، لاہور، ملتان اور حیدرآباد سے ہوتے ہوئے کراچی میں داخل ہوئے۔
اس پورے سفر میں کہیں وہ ہوٹلوں میں قیام کرتے تو کبھی راستے میں خیمے لگا کر رات بسر کرتے، ان کا کہنا ہے کہ جنوبی پنجاب سے لیکر سندھ تک لوگ بڑے مہمان نواز تھے، وہ انہیں اپنے گھروں میں لے جاتے اور بڑی آؤ بھگت کرتے ۔

اس پورے سفر میں کہیں وہ ہوٹلوں میں قیام کرتے تو کبھی راستے میں خیمے لگا کر رات بسر کرتے
اعجاز رومی کے مطابق یہ خیال انہیں مسلسل تنگ کرتا رہا کہ پتہ نہیں وہ یہ مقصد پورا کر پائیں گے یا نہیں یا راستہ میں ہی تھک ہار جائیں گے، چونکہ ان کا تعلق پہاڑی علاقے سے ہے اور انہوں نے ثابت کیا کہ وہ سخت جان ہیں حالانکہ انہوں نے اس سے پہلے کوئی مشق وغیرہ نہیں کی تھی ، بس منصوبہ بنایا اور نکل پڑے۔
اصغر رومی اور اعجاز رومی نے اس مارچ کے دوران ہڑپہ اور حیدرآباد میوزیم میں تاریخی آثار دیکھے جنہیں وہ زندگی کے یاد گار واقعات قرار دیتے ہیں اور اس بات پر بھی خوشی کا اظہار کرتے ہیں کہ انہوں نے ملتان میں قومی امن کانفرنس میں بھی شرکت کی ۔
اعجاز رومی کا کہنا ہے کہ بدامنی کی پانچ وجوہات ہیں، سماجی نا برابری، صحت اور تعلیم کی سہولیات کا فقدان، سیاسی عدم استحکام ، کمزور ادارے اور اسٹیبلشمنٹ۔ اگر یہ نہ ہوں تو امن ہی امن ہو، وہ تسلیم کرتے ہیں کہ صرف واک کرنے سے امن قائم نہیں ہوسکتا۔ اگر ایک واک سے امن ہوجاتا تو دنیا کی فوجیں واک ہی کرتی رہتیں، پیدل چلنے سے شعور اجاگر ہوتا ہے اس لیے ہم نے اس کا انتخاب کیا۔
صرف پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگا کرگھروں میں بیٹھ جائیں گے تو اس سے کچھ نہیں ہوگا امن کے قیام کے لیے کچھ وقت دینا پڑے گا۔
اصغر رومی
اصغررومی بھی ان کی رائے سے متفق ہیں ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے پہلے مقامی سطح پر پیدل چلنے کا سوچا تھا مگر اس سے ان کا مقصد محدود ہوجاتا ان کا پیغام تو ملک اور دنیا بھر کے لیے تھا۔ صرف پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگا کر گھروں بیٹھ جائیں گے تو اس سے کچھ نہیں ہوگا امن کے قیام کے لیے کچھ وقت دینا پڑے گا۔
دونوں نے اس واک کے لیے ایک ویب سائیٹ بھی بنائی تھی، جسے ان کے ساتھی کراچی سے اپ ڈیٹ کرتے تھے، جن میں ان کی تصاویر اور ان کی موجودگی کی تفصیلات کے ساتھ پیغامات بھجینےکی سہولت بھی موجود تھی، اعجاز بتاتے ہیں کہ ان پیغامات میں لوگ ان کے اس اقدام کی تعریف کرتے اور اپنے تعاون کی یقین دہانی کراتے جس سے انہیں حوصلا ملتا تھا، پورے سفر میں ہم نے دیکھا کہ سب لوگ امن چاہنے والے ہیں کوئی بھی بدامنی نہیں چاہتا۔
خنجراب سے کراچی تک یہ ہی دیکھا کہ لوگ اپنے حقوق اور سہولیات سے محروم ہیں، لوگوں کے پاس زمین ہے تو پانی نہیں ہر جگہ یہ سننے کو ملا کہ اگر حکومت کچھ مدد کرے تو یہ مسائل حل ہوسکتے ہیں، کچھ سکولوں میں بھی گئے مگر اکثر استاد مخلص نظر نہیں آئے، کہیں کہیں ایسے بچے بھی دیکھے جن کی عمر پڑھنے کی تھی مگر وہ کھیتوں میں کام کر رہے تھے۔
یہ بہت بڑی سرگرمی تھی کیونکہ یہ مارچ کافی دن جاری رہنا تھا جس سے بہت سے لوگوں کو امن کا پیغام دینا ممکن تھا اس لیے وہ اس مشن کے لیے تیار ہوگئے
اعجاز رومی
گلگت بلتستان میں اصلاحات اور اسمبلی سازی کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہاں ایک شناخت بنی ہے، اس سے پہلے لوگوں میں بہت بے چینی تھی کہ ہم کشمیر کے ساتھ ہیں، انڈیا کے ساتھ یا پاکستان کے ساتھ۔ اب حکومت نے جو اسمبلی بنائی ہے اس سے فائدہ ہوگا یا نہیں اس سے ہٹ کر لوگ خوش ہیں کہ ان کی ایک الگ پہچان بنی ہے۔
بغیر کسی مالی تعاون کے اپنے اس پیدل چلنے کی کامیابی پر دونوں کزن خوش ہیں، ان کا دعویٰ ہے کہ امن کے لیے اب تک کیے گئے مارچ میں یہ سب سے طویل مارچ تھا، اس مارچ کے بعد وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دوستی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔
اصغر رومی کے مطابق بھارت اور پاکستان میں دوستی نہیں وہ مستقبل میں دوستی کا پیغام لیکر اسلام آباد سے دلی تک پیدل سفر کرنے کی خواہش رکھتے ہیں اس کے لیے دونوں حکومتوں کی رضامندی اور اجازت درکار ہیں اور انہیں امید ہے کہ انہیں اجازت مل جائے گی۔