
پاکستان کے صدر اور حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے شریک چیئرپرسن آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ اگر وہ ایوان صدر یا وزیراعظم ہاؤس میں پہنچےہیں تو عوام نے پیپلز پارٹی کو مینڈیٹ دیا ہے، اس لیے یہ ان کا جمہوری حق ہے کہ وہ اپنی مدت پوری کریں۔
کراچی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے تینتالیسواں یومِ تاسیس کے جلسہ عام سے ایوان صدر اسلام آباد سے بذریعہ سیٹلائیٹ خطاب کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری نےکہا کہ پارلیمنٹ اور اپوزیشن بالغ ہوچکی ہے، اس لیے اپوزیشن اور نہ ہی اسٹیبلمشنٹ چاہتی ہے کہ یہ جمہوری نظام پٹڑی سے اترے۔ صدر زرداری نے کہا ’صرف سیاسی اداکاروں کی یہ خواہش ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ سندھ نے پاکستان بنایا اور پیپلز پارٹی نے آج تک اسے قائم و دائم رکھا ہے اور آئندہ بھی رکھیں گے۔’چند لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اداکاری کرکے ان سے ان کا حق چھین لیں گے۔‘
صدر زرداری نے پاکستان کے ایک بڑے میڈیا گروپ کا نام لیے بغیر کہا کہ ایک چینل کی اجارہ داری قائم ہوگئی ہے ’وہ اپنا ریٹ لینا چاہتے ہیں مگر ہم اس کے ریٹ دیئے بغیر یہاں پہنچے تھے، ان کے ریٹ دیئے بغیر یہاں بیٹھے ہیں اور ان کا ریٹ دیئے بغیر آنے والے انتخابات میں کامیاب ہوں گے ۔‘
صدر زرداری کے مطابق انہوں نے خون اور قربانیوں سے یہ درخت لگایا ہے اس کے چھاؤں میں پورا پاکستان بیٹھے گا۔’ اس دن سے ڈرو جب عام عوام اور پاکستان کا بچہ بچہ بینظیر بھٹو کےقدم پر چلنے کے بجائے کسی اور قدم کی بات کرے گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ کہا جاتا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ صدر زرداری کو ایمبولینس میں جانا پڑے’ میں اس میں جانے کے لیے تیار ہوں، موت کے لیے ہم سب ہمیشہ تیار ہیں، ہمیں پتہ تھا کہ ہمیں جیل بھیجا جائے مگر پاکستان نہیں چھوڑا، بینظیر بھٹو کو پتہ تھا کہ ان کی جان خطرے میں ہے مگر اس کے باوجود وہ ملک واپس آئیں کسی کہ کہنے پر عوام کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایوان صدر میں بھٹو ازم آیا ہوا ہے، لوگوں کو اس کا خوف ہے۔ ورنہ کیا وجہ ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے اس ملک کو آئین دیا، پیپلز پارٹی نے بلوچستان میں پہلی بار معافی مانگی، وہاں کے لیے پیکج دیا ، فاٹا اور بلتستان کےحقوق دیئے اگر ہم پاکستان کو مضبوط کرنا چاہ رہے ہیں تو اس پر اتنی بڑی للکار کیوں، اتنا شور اور اتنی باتیں کیوں۔
اس جلسے میں کراچی سمیت سندھ بھر سے پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے شرکت کی، پیپلز پارٹی کی حکومت کے بعد کراچی میں یہ پہلا جلسہ تھا۔ شاہراہ محمد علی جناح کے مزار کے برابر میں ہونے والے اس جلسے کے دوران سٹریٹ لائٹس بند رہیں اور جلسہ ختم ہوتی ہیں یہ لائیٹس جلنے لگیں تھیں۔ واضح رہے کہ شہر میں سٹریٹ لائٹس کا انتظام شہری حکومت کے حوالے ہے۔
صوبائی وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھی ٹوپی ان کےلیے باعث فخر ہے اس کے خلاف بات کرنے والوں کی زبان کھینچ لی جائے گی۔ ان کے مطابق سندھ کارڈ پاکستان بنانے کے لیے استعمال کیا گیا تھا اگر اس بچانے کے لیے سندھ کارڈ کے استعمال کی ضرورت ہوئی تو اسے ضرور کیا جائیگا۔
صوبائی وزیر داخلہ نے اتحادی جماعت ایم کیو ایم کا نام لیے بغیر کہا کہ کچھ دوست این آر او کی بین بجا رہے ہیں اگر این آر او کے مقدمات کھلیں گے تو قتل، اقدام قتل اور ہنگامہ آرآئی کے ساڑہ تین ہزار مقدمات بھی کھلیں گے اور اس کی ابتدا وہ کریں گے۔
© MMX