
قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز اور مشتبہ عسکریت پسندوں کے درمیان ہونے والے جھڑپوں میں مارٹر گولہ بازار میں گرنے سے پانچ افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے ہیں۔
پولیٹکل انتظامیہ خیبر ایجنسی کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ پیر کو سہ پہر کے وقت لنڈی کوتل بازار میں اس وقت پیش آیا جب سکیورٹی فورسز اور مشتبہ عسکریت پسندوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہورہا تھا۔
عینی شاہدین کا کہنا کہ شدت پسندوں نے گاگرہ ایف سی چیک پوسٹ پر توپ کے گولوں سے حملہ کیا جبکہ اس دوران سکیورٹی فورسز نے بھی جوابی کارروائی کی اور توپ خانے کا بھر پور استعمال کیا۔
انہوں نے کہا کہ فائرنگ کا تبادلہ جاری تھا کہ اس دوران توپ کا ایک گولہ لنڈی کوتل بازار میں آمرت نامی ایک مارکیٹ کے قریب جاگرا جس سے وہاں موجود پانچ افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے۔ تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ گولہ کس کی طرف سے داغا گیا تھا۔ مقامی لوگوں کے مطابق زخمیوں میں چار کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے جنھیں پشاور منتقل کردیا گیا ہے۔
ادھر دوسری طرف اطلاعات ہیں کہ اورکزئی ایجنسی اور ضلع ہنگو کے سرحدی علاقے میں دوسرے روز بھی سکیورٹی فورسز اور مشتبہ طالبان کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے جس میں اب تک بارہ افراد ہلاک چکے ہیں۔
ہنگو کے ایک اعلی سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اتوار کو سکیورٹی فورسز نے طالبان کے ایک اہم مرکز شاہو خیل میں داخل ہوکر وہاں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس علاقے میں طالبان کے اثر رسوخ میں دن بدن اضافہ ہورہا تھا اور حکومت اپنی عمل داری بحال کرنے کےلیے وہاں سکیورٹی دستوں کو تعینات کررہی تھی کہ اس دوران ان پر شدت پسندوں کی طرف سے حملہ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندوں نے شاہو خیل میں پچھلے ایک ماہ کے دوران اہل تشیع کے چالیس کے قریب مکانات کو بم دھماکوں میں تباہ کردیا ہے۔
بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے شاہو خیل اور اورکزئی ایجنسی کے سرحدی مقامات پر طالبان کے خلاف باقاعدہ آپریشن کا آغاز کردیا ہے تاہم ابھی سرکاری طورپر اس کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے شاہو خیل اور اورکزئی ایجنسی کے ایک پہاڑی علاقے پر قبضہ کرکے وہاں پوزشنیں سنبھال لی ہیں۔
یہ بھی اطلاعات ہیں کہ جنوبی وزیرستان میں جاری آپریشن کے نتیجے میں بیت اللہ گروپ کے تحریک طالبان کے کئی اہم کمانڈر اور دیگر جنگجو علاقہ چھوڑ کر اورکزئی ، کرم اور شمالی وزیرستان منتقل ہوئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ زیادہ تر جنگجو شاہو خیل پہنچ چکے ہیں۔
خیال رہے کہ شاہو خیل ضلع ہنگو کے شمال میں ایک چھوٹا سا گاؤں ہے جس کی سرحدیں اورکزئی ایجنسی سے متصل ہیں۔ پولیس کی عمل داری نہ ہونے کے باعث یہ ’ نوگو ایریا’ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اس علاقے میں بیت اللہ گروپ کے طالبان کا اثررسوخ زیادہ بتایا جاتا ہے۔ یہاں شعیہ سنی فسادات بھی ہوتے رہے ہیں جس کی وجہ سے اہل تشیع یہ علاقہ چھوڑ کر دیگر شہروں میں آباد ہوگئے ہیں۔
© MMX