Advertisement

’حکومت ڈاکٹر قدیر کے مسئلے کا حل نکالے‘

پاکستانی ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان

ڈاکٹر قدیر خان نے کہا ہے کہ انہوں نے غیر ملکی میڈیا کو کوئی ایسا انٹرویو نہیں دیا جو پاکستان کے ایٹمی اثاثوں یا ملک کے خلاف ہو

لاہور ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت سے کہا ہے کہ وہ پچیس نومبر تک ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی آزادانہ نقل وحرکت کے مسئلے کا حل نکالے۔

یہ ہدایات جمعرات کے روز لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی آزادانہ نقل وحرکت کے بارے میں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف وفاق کی طرف سے دائر کی جانے والی انٹرا کورٹ اپیل پر دی گئی۔

وفاق کے وکیل احمر بلال صوفی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں اور انہوں نے بین الاقومی میڈیا کو انٹرویو دیے ہیں جس کی وجہ سے حکومت کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایٹمی سائنسدان بھی ملک دشمن عناصر کی ہٹ لسٹ پر ہوتا ہے اور ان سائنسدانوں کی حفاظت حکومت کی ترجیحات میں شامل ہوتی ہے۔

وفاق کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے ڈاکٹر عبدالقدیر کی نقل وحرکت کو محدود کیا ہوا ہے اور اُنہیں مناسب سکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔

بینچ میں شامل جج ناصر سعید شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حساس معاملات عدالت میں نہ لائیں اور نہ ہی انہیں عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر معاملات حساس نوعیت کے ہیں تو حکومت خود ڈاکٹر قدیر کو منع کر سکتی ہے کہ وہ ذرائع ابلاغ کو انٹرویو نہ دیں۔

جسٹس ناصر سعید نے ڈاکٹر عبدالقدیر کے وکیل سے کہا کہ وہ اپنے موکل سے کہیں کہ وہ اس ضمن میں محتاط رویہ اختیار کریں۔

سماعت کے دوران ڈاکٹر عبدالقدیر کا ایک تحریری جواب بھی عدالت میں پیش کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے غیر ملکی میڈیا کو کوئی ایسا انٹرویو نہیں دیا جو پاکستان کے ایٹمی اثاثوں یا ملک کے خلاف ہو۔ خط میں کہا گیا ہے کہ جس شخص نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا ہو وہ کیسے اس کے ایٹمی پروگرام کے خلاف بات کر سکتا ہے۔

حکومت نے سابق اسلام آباد ہائی کورٹ کی ہدایت پر ڈاکٹر عبدالقدیر کو پروٹوکول فراہم کیا تھا جس کے خلاف انہوں نے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ پاکستان کے ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر کی آزادانہ نقل و حرکت پر کوئی پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔

ڈاکٹر عبدالقدیر کی طرف سے دائر کی جانے والی درخواست میں یہ موقف اختیار کیا گیا تھا کہ یہ ’نام نہاد‘ سکیورٹی پروٹوکال ختم کیا جائے اور انہیں آزادی سے آنے جانے کی اجازت دی جائے کیونکہ ہر انسان کی طرح یہ ان کا بنیادی حق ہے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔