
شاہ محمود قریشی ملتان میں صحافیوں کے سوالات کے جواب دے رہے تھے
پاکستان کے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نےکہا ہے کہ کوئی بیرونی طاقت پاکستان کو اپنے ملک کے کسی حصے میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی شروع کرنے پر مجبور نہیں کر سکتی۔
نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان کی حکومت اپنی ترجیحات اور ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان فوج کی مشاورت سے ہی کسی حصے میں کارروائی شروع کرے گی۔ شاہ محمود قریشی اپنے آبائی شہر ملتان میں اخبار نویسوں سے بات کر رہے تھے۔
کلِک براک اوباما کا خط زرداری کے نام
نیویارک ٹائمز نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں کہا تھا کہ صدر اوباما نے صدر زرداری کے نام بھیجے گئے ایک خط میں پاکستان میں طالبان اور القاعدہ کے خلاف آپریشن کو وسیع کرنے پر زور دیا ہے۔
امریکی صدر کے خط کے بارے میں شاہ محمود قریشی نےمزید کہا کہ خط میں ’ڈو مور‘ (’زیادہ کیجیے‘) کی بات نہیں کی گئی کیونکہ وہ تمام عالمی قوتین جن کے ساتھ پاکستان تعاون کر رہا ہے وہ پاکستان کی قربانی کا اعتراف کرتے ہیں اور اس کو سراہتے بھی ہیں اس لیے ’ کسی کے کہنے پر نہ زیادہ کرنا اور نہ ہی کم کرنا ہے بلکہ یہ دیکھنا ہے کہ پاکستان کی ضرورت کیا ہے اور ترجیحات کیا ہیں‘۔
انہوں نے بتایا کہ امریکی صدر براک اوباما نومبر کے آخر میں افغان پالیسی کا اعلان کریں گے جبکہ یہ توقع ہے کہ افغان صدر حامد کرزئی کی تقریب حلف برادری میں ان کی امریکی اور برطانوی ہم منصب سے ملاقات ہو۔ انہوں نے کہا کہ دنیا اس بات پر قائل ہوچکی ہے کہ پاکستان کی مدد اور تعاون کے بغیر افغانستان میں امن اور استحکام ممکن نہیں ۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ جنوبی وزیرستان آپریشن میں توقعات سے کہیں بہتر ہو رہا ہے۔ ڈرون حملوں کے بارے میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ امریکہ کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ڈورن ٹیکنالوجی پاکستان کو منتقل کی جائے۔
انھوں نے بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کے حالیہ بیانات کو مثبت قرار دیا اور کہا کہ مذاکرات پاکستان اور بھارت دونوں کے مفاد میں ہیں۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارتی وزیر اعظم کے حالیہ بیانات کا جائزہ لیا جائے تو یہ بیانات مثبت ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت بات چیت کے ذریعے ہی مسائل کو حل کرسکتے ہیں جبکہ دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت کو آگے بڑھنے کا واحد راستہ جامع مذاکرات ہیں۔ ان کے بقول عالمی برادری بھارت سے کہہ رہی ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھے اور مسائل کا حل تلاش کرے۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ دہشت گردوں کے ہاتھوں یرغمال نہیں بن کر رہ سکتے کیونکہ بقول ان کے دہشت گرد ایسی رکاوٹیں پیدا کریں گے جس سے دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کا عمل آگے نہ بڑھے۔
دونوں ملکوں کے درمیان پانی کے تنازعے پر پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ پانی کا مسئلہ ایسا ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اس معاملے پر ماہرین سے مشاورت کی جا رہی ہے اور اگر دو طرفہ مذاکرات میں یہ مسئلہ حل نہ ہوا تو سندھ طاس معاہدے کے تحت ثالثی کا سہارا لیا جائے گا اور اس معاملہ کو اٹھائیں گے۔
© MMIX