
چودہ سالہ بچے کو طالبان نے خودکش بمبار بننے پر مجبور کرنے کی کوشش کی
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ میں ایک چودہ سالہ بچے نے اپنی آب بیتی بیان کی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ طالبان نے اسے خودکش بمبار بننے پر مجبور کرنے کی کوشش کی۔ تاہم اب یہ بچہ فوج کی تحویل میں ہے۔
(بچے نے اپنی کہانی بی بی سی نامہ نگار اورلا گورن کو سنائی ہے۔ تاہم اس کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے)
’باجوڑ میں پانچ لوگوں نے مجھے ایک سازش کے ذریعے پکڑا۔ انہوں نے کہا کہ اگر میں ان کے ساتھ نہ گیا تو وہ میرے باپ کا سر قلم کردیں گے جو ان کی تحویل میں ہے۔ میں ان کے ساتھ چلا گیا مگر میرا باپ وہاں نہ تھا۔ انہوں نے میرے ہاتھ پاؤں باندھ دیے۔ انہوں نے کہا تمہارے پاس دو راستے ہیں۔ تم خود کش بمبار بن جاؤ یا پھر ہم تمہارا سر قلم کردیں گے۔ میں نے انکار کیا۔
وہاں میری عمر کے مزید دو بچے بھی تھے۔ ان کو بھی خود کش بمباری کی تربیت دی جارہی تھی۔ اگر ہم انکار کرتے تھے تو وہ ہم پر تشدد کرتے تھے۔ انہوں نے ہمیں ذہنی طور پر بھی تیار کرنے کی کوشش کی۔ جنت میں جانے کا لالچ دیا۔انہوں نے کہا : وہاں شہد اور مشروبات ہوں گے اور اللہ خود تہمارے سامنے ظاہر ہوگا۔ تمھارے پاس جنت میں خوبصورت گھر ہوگا۔
ہم ان سے کہتے تھے کہ ہمیں نماز پڑھنے دو تو وہ جواب دیتے کہ تم لوگ تو یونہی جنت کے راستے پر ہو تمہیں عبادت کی کیا ضرورت۔
انہوں نے پانچ مرتبہ مجھے بہت مارا پیٹا۔ کھانے کو کچھ نہ دیا۔ میں نے خودکش بمبار بننے کی حامی بھرلی۔انہوں نے مجھے بقیہ بچوں سے علیحدہ کردیا۔
وہ مجھے ایک اندھیرے کمرے میں لے گئے جہاں مجھے نشہ آور ادویات دی جاتی تھیں۔ مجھے مولوی فقیر (باجوڑ طالبان کمانڈر) کے حوالے کردیا گیا۔
مجھے بتایا گیا کہ مجھے ایک مسجد میں دھماکہ کرنا ہوگا۔ یہ ایک عام مسجد تھی۔ لیکن وہاں کے امام طالبان کے خلاف باتیں کیا کرتے تھے اور انہیں دشمن سمجھتے تھے۔ طالبان نے مجھے کہا کہ یہ امام غیر مسلم ہے۔
طالبان نے نے میری قمیض اتار دی۔ اور میرے کندھوں پر ایک جیکٹ پہنائی۔ انہوں نے کہا کہ مسجد میں جاکر ’اللہ اکبر‘ کا نعرہ لگانا اور اپنی جیکٹ کے دو ہُک کھول دینا۔ انہوں نے مجھے مسجد کے نزدیک چھوڑ دیا۔
میں نشہ آور ادویات کے زیر اثر تھا۔ مجھے کچھ محسوس نہیں ہورہا تھا۔ مجھے اس وقت ہوش آیا جب میں مسجد کے اندر پہنچ چکا تھا۔ میں نے دیکھا وہاں قرآن کے بہت سے نسخے رکھے تھے اور امام کا چہرہ نہایت شفیق تھا۔ میں نے لوگوں کو عبادت کرتے دیکھا۔ میں نے سوچا یہ سب تو مسلمان ہیں۔ میں انہیں کیسے ماروں۔ میں نے بم دھماکے کا ارادہ ترک کردیا اور مسجد سے باہر نکل آیا۔
میں مسجد کے باہر ایک درخت کے نیچے بیٹھ گیا اور نماز ختم ہونے کا انتظار کرنے لگا۔ پھر میں طالبان کے پاس واپس گیا۔ انہوں نے مجھے ’کتیا کی اولاد‘ کہا اور پوچھا کہ میں کیوں واپس آیا ہوں۔
میں نے کہا کہ میں مسجد میں داخل نہیں ہوسکا تھا کیونکہ وہاں ہر ایک کی تلاشی لی جارہی تھی۔
انہوں نے میری بمبار جیکٹ اتار لی اور مجھے مولوی فقیر کے حوالے کردیا۔
انہوں نے میرے ہاتھ پاؤں باندھ دیے۔ میں ان سے ایک اور موقع دیے جانے کی درخواست کی۔ انہوں نے میرا اعتبار کیا۔ لیکن میں اس مرتبہ اپنے گھر آگیا۔ انہوں نے گھر تک میرا پیچھا کیا۔ وہ جاننا چاہتے تھے کہ آیا میں گھر واپس آیا ہوں یا کہیں بھاگ گیا ہوں۔ انہوں نے مجھے اتنا مارا پیٹا تھا کہ میری کمر پر شدید زخم تھے۔ میری ماں یہ دیکھ کر رونے لگی اور کہا کہ واپس طالبان کے پاس مت جانا۔ میرے باپ نے ان سے پوچھا کہ وہ کیوں میرے پیچھے پڑے ہیں۔ ایک دن تو میرے باپ نے اپنی بندوق نکال لی اور ان کا پیچھا کیا تاہم وہ کچھ نہ کرسکا اور واپس آگیا۔
طالبان کے قبضے سے پہلے ہم آزاد تھے۔ ہم سکول جاتے تھے اور دل بھر کر کھیلتے تھے۔ ہم پر کوئی پابندی نہیں تھی۔ لیکن طالبان کے آنے کے بعد سب کچھ بدل گیا۔ ہمیں قیدیوں کی طرح محسوس ہوتا ہے۔
میں پاکستانی فوج میں شامل ہونا چاہتا ہوں۔ وہ اس سرزمین کے محافظ ہیں۔ میں طالبان کے خلاف لڑنا چاہتا ہوں۔ طالبان کا خاتمہ کردینا چاہیے۔ میں انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ وہ ظالم ہیں اور جو کچھ میرے ساتھ کیا گیا وہ غیر منصفانہ تھا۔ مجھے ان سے کوئی ڈر نہیں۔ میں صرف اپنے اللہ سے ڈرتا ہوں۔ میں صرف اس ہی کے آگے جوابدے ہوں۔
© MMIX