
نذیر عباسی کے خاندان کا الزام ہے کہ برگیڈیئر امتیاز ان کے قتل کے ذمہ دار ہیں
حکومت سندھ نے کمیونسٹ رہنماء نذیر عباسی قتل کیس کے سلسلے میں عدالتی کیشن تشکیل دینے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ صوبے کے وزیراعلی نے عدالتی کمیشن کا سربراہ ہائی کورٹ کے ایک حاضرسروس جج کو بنانے کی ہدایات کی ہیں۔
کمیونسٹ رہنماء نذیر عباسی کی اہلیہ حمیدہ گھانگھرو نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انہیں حکومت سندھ کی طرف سے جاری کردہ حکمنامی کی کاپی موصول ہوئی ہےجس میں بتایا گیا ہے کہ وزیراعلی سندھ سید قائم علی شاہ نے قانون اور پارلیمانی امور کے سیکرٹری کو کمیشن تشکیل دینے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
نذیر عباسی کی بیوہ حمیدہ نے حکومتی اقدامات کو مثبت پیش رفت قرار دیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ نذیر عباسی کو حراست کے دوران تشدد کرکے ہلاک رکنے والے پوشیدہ فوجی ہاتھ ظاہر ہونگے۔
کمیونسٹ رہنماء نذیر عباسی کے ساتھیوں اور لوحقین کے مطابق انہیں انیس سو اسی میں کراچی سے گرفتاری کے بعد تشدد کرکے تب ہلاک کیا گیا جب وہ فوجی حکام کے زیر حراست تھے۔کامریڈ نذیر کے ساتھیوں کے مطابق خفیہ ایجنسی کے سابق اہلکار بریگیڈیئر ریٹائر امتیاز عرف بلا نذیر عباسی کی ہلاکت میں ملوث ہیں۔
نذیر عباسی کے ساتھی سیاسی رہنماؤں نے بریگیڈیئر ریٹائرڈ امتیاز کے پاکستانی میڈیا پر حالیہ انٹرویوز نشر ہونے کے بعد ملک بھر میں ان کی گرفتاری کے لیے مظاہرے کیے تھے۔اور انہیں نذیر عباسی کی ہلاکت کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔
پیپلزپارٹی کے سابق دور اقتدار میں سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو نے نذیر عباسی کی بیوہ سے ملاقات کی تھی اور کیس کو دوبارہ کھولنے کی یقین دہانی کروائی تھی مگر ان کا اقتدار نذیرعباسی کیس کھلنے سے پہلے ہی ختم ہوگیا تھا۔
وزیراعلی سندھ کے سپیشل اسسٹنٹ امتیاز حسین ملاح نے نذیر عباسی کی بیوہ کو مطلع کیا ہے کہ وزیراعلی کے احکامات کے تحت عدالتی کمیشن سات روز کے اندر تشکیل دی جائے گی اور ہائی کورٹ کے ایک حاضر سروس جج کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔
© MMIX