
بھارت سے لائی گئی کاپیوں کی قیمت پاکستان میں ساڑھے تیرہ سو روپے تھی جبکہ پائریٹ کاپیوں کو دو سو روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے
پاکستان میں بھارت کے سابق وزیر خارجہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما جسونت سنگھ کی کتاب ’جناح، بھارت، تقسیم، آزادی‘ کی پائریٹ کاپیاں قانونی اشاعت سے زیادہ فروخت ہو رہی ہیں۔
جسونت سنگھ کی کتاب نے جہاں بھارت میں ایک تنازعہ کھڑا کردیا وہاں پاکستان میں بھی اس پر کئی بحث مباحثے ہوئے اور اس پر لکھا گیا، مگر کتاب کی عدم دستیابی کی وجہ سے کئی لوگ اس کے مطالعے سے محروم رہے۔
بھارت میں یہ کتاب اردو، بنگالی اور ہندی زبانوں میں شائع ہوچکی ہے، انگریزی میں اس کتاب کی محدود کاپیاں پاکستان آئیں جن کی قیمت ساڑھے تیرہ سو رپے تک تھی۔
بھارت کے علاوہ دنیا بھر میں اس کتاب کی اشاعت کے حقوق آکسفرڈ یونیورسٹی پریس کے پاس ہیں، جو ابھی تک کتاب شائع نہیں کرسکی ہے۔
آکسفرڈ یونیورسٹی پریس کی جانب سے فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی یعنی ایف آئی اے کو اس پائریسی کی شکایت کی گئی جس کے بعد اسلام آْباد، راولپنڈی، لاہور اور کراچی میں چھاپہ مار کر کوئی ایک درجن سے زائد دکانوں کے مالکان اور تقسیم کاروں کو گرفتار کیا گیا، جن سے بڑی تعداد میں کتاب کی پائریٹ کاپیاں برآمد کی گئی ہیں۔
کراچی میں ایف آئی اے نے گزشتہ دنوں مزید ایک تقسیم کار شعیب میمن کو گرفتار کرکے دو سو سے زائد کاپیاں برآمد کی ہیں۔
ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ کراچی میں جسونت سنگھ کے کتاب کی غیر قانونی اشاعت ہوئی، جہاں سے اسے پورے ملک میں بھیجا گیا اور اس کی قیمت دو سو رپے مقرر کی گئی ہے۔
آکسفرڈ یونیورسٹی پریس کی مینیجنگ ڈائریکٹر امینہ سید نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جناح، بھارت، تقسیم، آزادی‘ کتاب کی کھلم کھلا پائریسی ہو رہی ہے اور یہ بازاروں میں سر عام فروخت ہو رہی ہے۔ ان کی شکایت کے بعد کارروائی تو ضرور ہوئی مگر کتاب کی فروخت رک نہیں سکی ہے کیونکہ پائریسی روکنا بڑا مشکل ہے۔
کتاب کی اشاعت میں تاخیر کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ وہ جسونت سنگھ کے منتظر ہیں۔ انہوں نے دسمبر میں آنے کا کہا تھا وہ یہاں پاکستانی ایڈیشن کی رونمائی کریں گے۔ ’پاکستانی ایڈیشن تیاری کے مراحل میں ہے جو یہاں سے پوری دنیا کو بھیجا جائے گا‘۔
پاکستان میں ایک یہ تاثر عام ہے کہ دلچسپ موضوع پر لکھی گئیں کتابوں کی قیمت زیادہ ہونے کی وجہ سے پائریسی ہوتی ہے، مگر امینہ سید اس تاثر کو رد کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پائریسی کا مرض پورے ملک میں پھیل گیا ہے ’ہم نے پچاس ساٹھ روپے قیمت میں بچوں کی کچھ کتابیں چھاپی ہیں جو بہت مقبول ہوئیں وہ بھی پائریٹ ہوگئیں اس لیے قیمت سے اس کا کوئی واسطہ نہیں ہے۔ پبلشر یہ بہانہ کرتے ہیں کہ یہ مہنگی کتاب ہے ہم سستی لا رہے ہیں‘۔
© MMIX