
براہ راست نشستوں میں سے چار کے نتائج کا اعلان ابھی نہیں ہوا
گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے انتخاب میں الیکشن کمیشن کے حکام کا کہنا ہے کہ غیر حتمی نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی گیارہ نشستیں حاصل کرکے سب سے آگے ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق پیپلز پارٹی کے بعد مسلم لیگ (ق)، مسلم لیگ (ن)، متحدہ قومی موومنٹ اور جمعیت علماء اسلام (ف) نے ایک ایک نشست حاصل کی اور چار نشستوں پر آزاد امیدوار کامیاب قرار پائے۔
براہ راست نشستوں میں سے چار کے نتائج کا اعلان ابھی نہیں ہوا لیکن امکان یہی دکھائی دیتا ہے کہ پیپلز حکومت بنانے میں کامیاب ہوجائے گی۔
جمعرات کو گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی کی تئیس نشستوں پر انتخابات ہوئے اور ایک امیدوار کے انتقال کے باعث ایک نشست پر انتخابات ملتوی کردیے گئے جبکہ نو مخصوص نشستوں پر کامیاب ہونے والے اراکین اسمبلی کا اعلان بعد میں کیا جائِے گا۔ ان میں چھ نشستیں خواتین کے لیے مختص ہیں جبکہ ٹیکنوکریٹس کے لیے تین نشستیں مخصوص ہیں۔
گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں پاکستان کی آٹھ سیاسی جماعتوں کے علاوہ نصف درجن قوم پرست تنظیموں پر مشتمل اتحاد گلگت بلتستان ڈیموکریٹک الائنس نے بھی حصہ لیا۔ ان انتخابات میں ڈھائی سو سے زیادہ امیدوار میدان میں تھے جن میں ڈیڑھ سو سے زیادہ آزاد امیدوار تھے۔
انتخابات میں حصہ لینے والی پاکستان کی اہم جماعتوں میں پاکستان کی حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن ) مسلم لیگ(ق) کے علاوہ متحدہ قومی موومنٹ، عوامی نیشنل پارٹی، جمعیت علماء اسلام شامل ہیں۔
مسلم لیگ(ن) اور مسلم لیگ کے علاوہ متحدہ قومی موومنٹ نے اسلام آباد میں پیپلز پارٹی کی حکومت پر اپنے امیدواروں کے حق میں دھاندلی کروانے کا الزام عائد کیا ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق گلگت کی ایک نشست پر مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کی ناکامی کے بعد ان کے حامیوں نے گلگت شہر میں احتجاجی مظاہرہ کیا اور انتخابات کے نتائج کو مسترد کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ مشتعل مظاہرین نے شہر میں تھوڑ پھوڑ بھی کی۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نوازشریف کا بھی کہنا ہے کہ انتخابات کے دوران گلگت بلتستان کے الیکشن کمیشن کا کردار مشکوک رہا۔
تاہم وزیر برائے کشمیر و شمالی علاقہ جات قمر الزماں کائرہ نے دھاندلی کے الزامات کو یکسر مسترد کیا ہے۔ قمر زمان کائرہ گلگت بلتستان کے قائم مقام گورنر بھی ہیں۔
حکومت پاکستان کی طرف سے ستمبر میں گلگت بلتستان میں ’ایمپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر دو ہزار‘ کے نفاذ ہوا جس کے تحت گلگت بلستان کو نئی انتظامی حیثیت متعین کی گئی، یہ اس آرڈر کے بعد یہاں پہلے انتخابات ہیں۔ اس آرڈر کے تحت گلگت بلتستان کو صوبے کا درجہ تو نہیں دیا گیا لیکن پہلی بار گورنر مقرر کیا گیا اور وزیر برائے امور کشمیر قمر الزمان کائرہ گلگت بلتستان کے پہلے قائم مقام گورنر ہیں اور انتخابات کے بعد قانون ساز اسمبلی کے اراکین پہلی مرتبہ وزیر اعلیٰ منتخب کرے گی۔
اسی دوران پولیس کے مطابق گلگت بلتستان کے ضلع دیامر کے علاقے دریل میں جمعرات کی رات کو جمعیت علماء اسلام کے امیدوار اور آزاد امیدوار کے حامیوں کے درمیان مسلح تصادم ہوا جس کے نتیجے میں دو افراد ہلاک جبکہ دو زخمی ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والے افراد پولیس کے مطابق آزاد امیدوار کے حمایتی تھے جبکہ زخمی ہونے والوں کا تعلق جمعیت علماء اسلام سے ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس پرتشدد واقعہ کے بعد اس حلقے میں ووٹوں کی گنتی روک دی گئی ہے۔ اس پرتشدد واقعہ کے علاوہ حکام کا کہنا ہے کہ انتخابات کے دوران گلگت بلتستان میں مجموعی طور پر صورت حال پر امن رہی اور کہیں اور سے کسی بڑے ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ہے۔
© MMIX