Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Thursday, 12 november, 2009, 14:13 GMT 19:13 PST

بلوچستان پر ثالثی کے لیے تیار ہوں: نواز

پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ محمد نواز شریف نے وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ اگر ہندوستان، بلوچستان کے مسئلے میں ملوث ہے تو پاکستان کو چاہیے کہ وہ اس سلسلے میں اقوام متحدہ میں ٹھوس شواہد پیش کرے۔

مسلم لیگ کے سربراہ نواز شریف نے جمعرات کو اسلام آباد میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے ساتھ اپنے معتمدین کے ساتھ تفیصلی ملاقات کی۔ اس ملاقات میں سترویں ترمیم اور میثاق جمہوریت پر بھی بات چیت ہوئی لیکن بنیادی مقصد بلوچستان پیکج تھا۔بلوچستان کے مسئلے پر نواز شریف نے ثالث کا کردار ادا کرنے کی بھی پیشکش کی ہے۔

اس ملاقات میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان، پاکستان مسلم لیگ نون کے چیئرمین راجہ ظفرالحق، رکن قومی اسمبلی مہتاب عباسی، سینیٹر اسحاق ڈار اور جعفر اقبال شامل تھے جبکہ حکومت کی طرف سے رضا ربانی، سید نوید قمر، مخدوم امین فہیم، راجہ پرویز اشرف اور بابر اعوان شامل تھے۔ یہ ملاقات تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہی۔

وزیر اعظم سیکریٹیریٹ سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم نے بلوچستان پیکج کے حوالے سے آئینی کمیٹی کی سفارشات سے نواز شریف کو آگاہ کیا۔ نواز شریف نے بعد میں ایک اخباری کانفرنس میں بتایا کہ انھوں نے اپنی سفارشات وزیر اعظم کو پیش کردی ہیں اور وزیر اعظم سے کہا ہے کہ ایسے اقدامات کیے جائیں جو بلوچ عوام کو نظر آئیں جس کے بعد وہ بلوچوں کے دل اور دماغ جیت سکتے ہیں۔

میان نواز شریف نے کہا کہ انھوں نے بلوچستان کے مسئلے کے حل کے لیے وزیر اعظم کو غیر مشروط تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے اور کہا ہے کہ یہ معاملہ سیاسی سکور کرنے کا نہیں بلکہ پاکستان کا مسئلہ ہے ۔

ان سے جب کہا گیا کہ حکومت کا کہنا ہے کہ بلوچستان مسئلے کی خرابی میں بھارت ملوث ہے تو انھوں نے کہا کہ اگر حکومت کے پاس ٹھوس شواہد ہیں تو اس کے لیے اقوام متحدہ کو ثبوت فراہم کیے جائیں کہ پڑوسی ملک پاکستان کے لیے مسائل پیدا کر رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر ہندوستان، بلوچستان کے معاملے میں ملوث ہے تو اس سے دہشت گردی پر قابو پانے میں مدد نہیں ملے گی بلکہ مشکلات میں اضافہ ہوگا۔

نواز شریف نے وزیر اعظم سے کہا کہ بلوچستان کے حوالے سے تمام بلوچ رہنماوں سے رابطہ کیا جائے خواہ وہ لوگ پاکستان میں ہوں یا پاکستان سے باہر تاکہ مسئلے کو حل کیا جائے۔ نواز شریف کے مطابق جو قائدین بیرون ملک ہیں ان سے کسی بھی طریقے سے رابطہ کیا جائے تاکہ انھیں اعتماد میں لیا جائے اور بلوچستان پیکج کے لیے حکومت یہ اعلان بھی کرے کہ یہ پیکج کب تک پیش کیا جائے گا۔

مسلم لیگ کے سربراہ نے کہا کہ اگر انھیں کہا گیا تو وہ بلوچ رہنماؤں اور حکومت کے مابین ثالثی کے لیے تیار ہیں اور وہ یہ سب کچھ سیاسی سکور رکنے نہیں بلکہ پاکستان کے لیے کر رہے ہیں۔

نواز شریف نے براہمدغ بگٹی کے بارے میں کیے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اصل مجرم وہ ہیں جنھوں نے بلوچ رہنماؤں کو یہ راستہ اختیار کرنے پر مجبور کیا ہے۔ انھوں نے جذباتی ہو کر کہا کہ اصل مجرم وہ ہیں جو لوگوں کو ایسے اقدامات پر مجبور کرتے ہیں جو پاکستان کی تباہی اور بربادی کر گئے ہیں۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔