سامان بردار گاڑی چلانے والے محمد غیاث کا کہنا ہے کہ پہلے بجلی غائب ہوئی پھر چینی کو ترس گئے ہیں اور اب گیس بھی نہیں ملے گی تو وہ کیا کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ شاید حکومت چاہتی ہے کہ لوگ سڑکوں پر نکل آئیں۔

اگر ہفتے میں دو دن سی این جی نہیں ملے گی تو بچے بھوکے مر جائیں گے:شکیل احمد
وسطیٰ پنجاب کے بیشتر علاقوں میں قدرتی گیس کا کاروبار کرنے والے تاجروں کی انجمن نے موسم سرما میں ہفتے میں دو دن کے لیے قدرتی گیس یا سی این جی سٹیشنز بند کرنے کے حکومتی فیصلے کے خلاف احتجاج کے طور پر مرحلہ وار ہڑتال کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔
اس ہڑتال کے دوسرے مرحلے میں آج پنجاب کے متعدد شہروں میں ہڑتال کی گئی۔ ان میں گوجرانوالہ، لاہور، اوکاڑہ، ساہیوال، سرگودھا، خوشاب، میانوالی اور چونیاں شامل ہیں۔
چوبیس گھنٹے پر محیط یہ ہڑتال جمعرات اور جمعہ کی رات بارہ بجے ختم ہو گی۔ لیکن اسی وقت اس مرحلہ وار ہڑتال کے تحت فیصل آباد، ملتان اور بہاولپور ڈویژن میں سی این جی سٹیشنز بند کر دیے جائیں گے۔
لاہور میں اکثر سی این جی سٹیشنز نے آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن کی اپیل پر اپنا کاروبار معطل کیا ہوا ہے تاہم چند گنے چنے سٹیشنز ہڑتال میں شامل نہیں۔سی این جی ایسوسی ایشن کے سینیئر نائب صدر کیپٹن شجاع احمد کے بقول یہ وہ مراکز ہیں جو پٹرولیم کمپنیوں کے ماتحت کام کرتے ہیں۔
سی این جی سٹیشنز میں ہڑتال کے سبب ذاتی گاڑیاں رکھنے والے صارفین سے زیادہ وہ صارفین متاثر ہوئے ہیں جن کا روزگار ٹرانسپورٹ سے وابستہ ہے۔
شکیل احمد سی این جی رکشا چلاتے ہیں اور انہیں دن میں دو مرتبہ گیس بھروانے کی ضرورت پڑتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ہفتے میں دو دن سی این جی نہیں ملے گی تو ان کے بچے بھوکے مر جائیں گے۔
ایک سکول کے باہر بچوں کو ان کے گھر پہنچانے کے لیے چھٹی کا انتظار کرتے ہوئے شکیل احمد کافی پریشان تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ بمشکل ہی بچوں کو ان کے گھروں تک پہنچا پائیں گے کیونکہ ان کے پاس اب بہت کم گیس ہے۔
شکیل احمد کا رکشا قسطوں پر ہے اور انہیں چار ہزار روپے ماہانہ قسط ادا کرنی ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومتی فیصلے کی وجہ سے وہ ناصرف گھر کے اخراجات پورے نہیں کر پائیں گے بلکہ قسط بھی ادا نہیں کر سکیں گے۔
سامان بردار گاڑی چلانے والے محمد غیاث کا کہنا ہے کہ پہلے بجلی غائب ہوئی پھر چینی کو ترس گئے ہیں اور اب گیس بھی نہیں ملے گی تو وہ کیا کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ شاید حکومت چاہتی ہے کہ لوگ سڑکوں پر نکل آئیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے جب ماحول کے تقاضوں کے پیش نظر سی این جی رکشے شروع کیے تو لوگوں نے پائی پائی اکٹھی کر کے رکشے خریدے اور اس کے چند ہی سال بعد حال یہ ہے کہ سی این جی کی قلت ہو گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ پٹرول پر رکشا چلائیں گے تو ان کی بچت بہت کم رہ جائے گی۔
ایک سی این جی سٹیشن کے باہر سامان اٹھانے والی وین میں بیٹھے محمد غیاث کافی افسردہ تھے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ منتیں کر رہے ہیں لیکن سی این جی سٹیشنز والے انہیں سو روپے کی سی این جی بھی دینے کو تیار نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کا تو روزگار ہی گاڑی کے چلنے سے وابستہ ہے۔ اگر سی این جی نہیں ملے گی تو انہیں پٹرول لینا پڑے گا جو بہت مہنگا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پہلے بجلی غائب ہوئی پھر چینی کو ترس گئے ہیں اور اب گیس بھی نہیں ملے گی تو وہ کیا کریں گے۔ محمد غیاث کا کہنا تھا کہ شاید حکومت چاہتی ہے کہ لوگ سڑکوں پر نکل آئیں۔
وفاقی وزیر پٹرولیم اور قدرتی وسائل نوید قمر اور آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن کے درمیان جمعہ کو مذاکرات متوقع ہیں۔ سی این جی اسوسی ایشن کے عہدیداروں کے مطابق مرحلہ وار ہڑتال مذاکرات کے دوران بھی جاری رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے اپنا فیصلہ واپس نہ لیا تو پھر پندرہ نومبر کے بعد لگاتار ہڑتال ہو گی۔
© MMIX