
ہائی کورٹ کے پانچوں ججوں نے ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پی سی او کے تحت حلف اٹھایا تھا
صدر آصف علی زردرای نے ہائی کورٹ کے پانچ ججوں کے خلاف ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل کو بھجوا دیے ہیں۔یہ پہلی مرتبہ ہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کے بعد کوئی ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل کو بھجوایا گیا ہے۔
سپریم کورٹ کے رجسٹرار کے مطابق ججوں کے خلاف ریفرنس سپریم کورٹ کے اکتیس جولائی کے فیصلے کی روشنی میں بھیجے گئے ہیں۔
ان ججوں میں پنجاب، سندھ اور پشاور ہائی کورٹس کے جج صاحبان شامل ہیں۔ جن ججوں کے خلاف ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل کو بھجوایا گیا ہے اُن میں شبر رضا، حامد علی شاہ، حسنات احمد، جہانزیب رحیم اور یاسمین عباسی شامل ہے۔
مذکورہ ججوں نے تین نومبر سن دوہزار سات کو سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی طرف سے ملک میں لگائی جانے والی ایمرجنسی کے بعد پی سی او کے تحت حلف اُٹھایا تھا۔
پی سی او کے تحت حلف اُٹھانے والے ججوں کو سپریم کورٹ کے چودہ رکنی بینچ نے اکتیس جولائی کے فیصلے میں توہین عدالت کے نوٹس جاری کیے تھے جس کے مطابق ان ججوں نے سپریم کورٹ کے سات رکنی بنچ کے تین نومبر کے فیصلے کی خلاف ورزی کی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ کوئی جج پی سی او کے تحت حلف نہیں اُٹھائے گا
پی سی او کے تحت حلف اُٹھانے والے ججوں کو سپریم کورٹ کے چودہ رکنی بینچ نے اکتیس جولائی کے فیصلے میں توہین عدالت کے نوٹس جاری کیے تھے جس کے مطابق ان ججوں نے سپریم کورٹ کے سات رکنی بنچ کے تین نومبر کے فیصلے کی خلاف ورزی کی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ کوئی جج پی سی او کے تحت حلف نہیں اُٹھائے گا۔
ان میں سے ججوں کی اکثریت نے عدالت سے غیر مشروط معافی مانگنے کے علاوہ قبل از وقت ریٹائرمنٹ کی درخواستیں بھی دے دی تھیں جو منظور کرلی گئیں۔
مذکورہ پانچ ججوں نے عدالت کی طرف سے ملنے والے توہین عدالت کے نوٹس کا جواب بھی عدالت میں جمع کروا دیا تھا۔
واضح رہے کہ جن ججوں کے خلاف ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل میں بھجوائے گئے ہیں اُن میں پشاور ہائی کورٹ کے جج جہانزیب رحیم بھی شامل ہیں جنہوں نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف سابق ملٹری ڈکٹیٹر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو ایک خط لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ چیف جسٹس نے جائیداد کے ایک مقدمے میں جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اُن کے خلاف فیصلہ دیا تھا۔
سپریم کورٹ میں توہین عدالت کے مقدمے میں جہانزیب رحیم کی وکالت نعیم بخاری کررہے ہیں اور انہوں نے بھی افتخار محمد چوہدری کے خلاف سابق صدر پرویز مشرف کو خط لکھا تھا۔ اس خط کے باعث نعیم بخاری کو وکلاء برادری کی طرف سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
© MMIX