
گرفتار صحافیوں کا کہنا ہے کہ انہیں اجمل قصاب کیس پر رپورٹنگ میں غیر ملکی صحافیوں کی مدد کرنے کی سزا دی جا رہی ہے۔
پاکستان میں وسطی پنجاب کے ضلع اوکاڑہ کی پولیس نے ممبئی حملوں کے مبینہ ملزم اجمل قصاب کی تحصیل دیپالپور کے دو مقامی صحافیوں کو گرفتار کرلیا ہے۔
ان دونوں کے خلاف تعزیرات پاکستان کے تحت فوجداری مقدمات درج کیے گئے ہیں۔
تاہم گرفتار صحافیوں کا کہنا ہے کہ انہیں ممبئی حملوں کے بعد ذرائع ابلاغ کے ملکی اور غیر ملکی نمائندوں کی میزبانی کے فرائض انجام دینے کی وجہ سے جھوٹے مقدمات میں پھنسایا گیا ہے۔
گرفتار ہونے والوں میں دیپالپور پریس کلب کے صدر رب نواز جوئیہ اور سیکرٹری جاوید کنول چندوڑ شامل ہیں۔
دیپالپور کی مقامی سیاسی اور سماجی تنظیموں کے کارکنوں نے صحافیوں کی گرفتاری کے خلاف شہر میں جلوس نکالا، ایک مقامی پارک میں احتجاجی مظاہرہ کیا اور آزادی صحافت کے حق میں نعرے بازی کی۔
مظاہرین نے مختلف پوسٹر اور بینر اٹھا رکھے تھے جن پر آزادیِ صحافت کے حق میں اور پولیس کے خلاف نعرے درج تھے۔ مظاہرین کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی کے لیے پولیس اہلکار بھی موجود تھے۔
تھانہ صدر دیپالپور کے سٹیشن ہاؤس آفیسر رانا لیاقت نے میڈیا کو بتایا کہ مقامی پریس کلب کے صدر رب نواز جوئیہ اور سیکرٹری جاوید کنول چنڈور کے خلاف کار چوری کی کوشش اور پریس کلب کے فنڈز میں بے ضابطگی کے الزامات ہیں۔
درخواست دہندہ آصف رسول ایڈووکیٹ کے بقول پریس کلب کے سامنے کھڑی کی گئی ان کی کار کو چوری کرنے کی کوشش کی گئی۔
دوسرا مقدمہ پریس کلب کے فنڈ میں مبینہ بےضابطگی کے الزام میں درج کیا گیا ہے۔ یہ فنڈ وزیر اعلی پنجاب کی جانب سے دیپالپور پریس کلب کو بطور امداد ملا تھا۔ پولیس کو شکایت ہے کہ اس کا باضابطہ آڈٹ نہیں کرایا گیا تھا۔

گرفتار صحافیوں کے حق میں مظاہروں کے دوران پولیس کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔
حوالات میں بند صحافیوں نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے ایک برس پہلے ممبئی حملوں کے ملزم اجمل قصاب کے گاؤں فرید کوٹ کی تلاش میں آنے والے ذرائع ابلاغ کے ملکی اور غیر ملکی نمائیندوں کی میزبانی کے فرائض انجام دیئے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ تب سے انہیں پولیس اور خفیہ ایجینسیوں کے ناروا سلوک کا سامنا ہے اور پولیس اور خفیہ ایجنیسوں کے اہلکار مختلف حیلے بہانے سے انہیں تنگ کرتے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انتقامی کارروائی کے اسی تسلسل میں اب انہیں جھوٹے مقدمات میں پھنسایا گیا ہے۔
واضح رہے کہ اجمل قصاب تحصیل دیپالپور کے گاؤں فرید کوٹ کے رہائشی ہیں۔ بھارت نے گذشتہ برس کے ممبئی حملوں کے بعد انہیں گرفتار کرنے دعوی کیا تھا اور الزام عائد کیا تھا کہ ممبئی حملوں کی سازش پاکستان میں تیار کی گئی۔
پاکستانی حکام نے پہلے اجمل قصاب کے پاکستانی ہونے کی تصدیق نہیں کی تھی لیکن بعد میں ان کی پاکستانی شہریت کو تسلیم کرلیا گیا تھا۔
اجمل قصاب کے خلاف بھارت کی عدالت میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔
© MMIX