Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Thursday, 12 november, 2009, 06:21 GMT 11:21 PST

پشاور میں ایرانی قونصل کے اہلکار کا قتل

حملہ آور پیدل آئے تھے اور انہیں پستول سے نشانہ بنانے کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے: پولیس

صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں نامعلوم مسلح افراد نے ایرانی قونصل خانے کے شعبہ تعلقات عامہ کے انچارج ابوالحسن جعفری کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا ہے۔

پشاور میں گلبرگ پولیس سٹیشن کے آفسر عابدالرحمٰن نے بی بی سی کو بتایا کہ ابو الحسن جعفری کو جمعرات کی صبح آٹھ بجکر دس منٹ پر اپنے گھر کے قریب قتل کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق مقتول دفتر جارہے تھے کہ مسلح افراد نے ان پر فائرنگ کی ہے۔

پولیس آفسر کے بقول ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ حملہ آور پیدل آئے تھے اور انہیں پستول سے نشانہ بنانے کے بعد جائے وقوعہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ ان کے مطابق حملے کے فوراً بعد انہیں سی ایم ایچ پہنچایا گیا جہاں پر انہوں نے زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ دیا۔ تاہم بعض عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگئے تھے۔

ابوالحسن جعفری کا شمار پشاور کے سینیئر ترین صحافیوں میں سے ہوتا تھا۔ وہ اگست انیس سو تریپن میں پشاور میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ نسلاً قزلباش تھے۔ وہ ستر کی دہائی میں پشاور سول سیکریٹریٹ میں ملازم تھے جس سے انہوں نے بعد میں استعفیٰ دے دیا۔

ابوالحسن جعفری صوبہ سرحد کے سابق وزراء اعلیٰ مولانا مفتی محمود اور ارباب محمد جہانگیر کے پرسنل سٹاف کا حصہ بھی رہے تھے۔ انہوں نے انیس سو پچاسی میں انگریزی اخبار فرنٹیئر پوسٹ میں سٹی رپورٹرسے صحافت کا باقاعدہ آغاز کیا۔ انہوں نے پاکستان آبزرور، کسوٹی اور ملک کے دیگر اردو اور انگریزی اخبارات کے ساتھ کام کیا ہے۔

اسی دوران وہ پشاور میں واقع ایرانی قونصلیٹ کے ساتھ بھی منسلک ہوئے جہاں وہ آج کل شعبہ تعلقات عامہ کے انچارج اور پولیٹکل آفیسر کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ انہیں ہندکو کے علاوہ پشتو، اردو، فارسی، عربی اور فرانسیسی زبان پر بھی عبور حاصل تھا۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔