Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Friday, 13 november, 2009, 23:30 GMT 04:30 PST

گلگت: چھ نشستوں پر پی پی فاتح

فائل فوٹو، گلگت

انتخابات کے دوران اڑھائی سو کے قریب پولنگ سٹیشنز کو انتہائی حساس قرار دیا گیا تھا

گلگت بلتستان میں جمعرات کو قانون ساز اسمبلی کی تئیس نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں اب تک آٹھ نشستوں کے غیر سرکاری نتائج کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

گلگت بلتستان میں الیکشن کمیشن کی طرف سے اعلان کردہ نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی اب تک چھ نشستیں حاصل کرنے کے بعد آگے ہے اور دو نشستوں پر آزاد امیدوار منتخب ہوئے ہیں۔

انتخاب جیتنے والوں میں گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کے سربراہ سید مہدی شاہ بھی شامل ہیں۔

جمعرات کو تئیس نشتوں پر انتخابات ہوئے اور ایک امیدوار کے انتقال کے باعث ایک نشت پر انتخابات ملتوی کر دیے گئے جبکہ نو مخصوص نشتوں کا انتخاب منتخب ہونے والے اراکین اسمبلی بعد میں کریں گے۔

ان میں چھ نشستیں خواتین کے لیے مختص ہیں جبکہ ٹیکنو کریٹس کے لیے تین نشستیں مخصوص ہیں۔

گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں پاکستان کی آٹھ سیاسی جماعتوں کے علاوہ نصف درجن قوم پرست تنظیموں پر مشتمل اتحاد گلگت بلتستان ڈیمو کریٹک الائینس نے بھی حصہ لیا اور ڈھائی سو سے زیادہ امیدوار میدان میں تھے جن میں ڈیڑھ سے زیادہ آزاد امیدوار تھے۔

انتخابات میں حصہ لینے والی پاکستان کی اہم جماعتوں میں پاکستان کی حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن )، مسلم لیگ(ق) کے علاوہ متحدہ قومی موومنٹ، عوامی نیشنل پارٹی، جمعیت علماء اسلام شامل ہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ اور مسلم لیگ (ق) نے اسلام آباد میں پیپلز پارٹی کی حکومت پر اپنے امیدواروں کے حق میں دھاندلی کروانے کا الزام عائد کیا ہے لیکن وزیر برائے امور کشمیر و شمالی علاقہ جات قمر الزماں کائرہ نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔ کائرہ گللگت بلتستان کے قائم مقام گورنر بھی ہیں۔

واضع رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان میں پیپلز پارٹی کی قیادت میں مخلوط حکومت میں شامل ہے۔

حکومت پاکستان کی طرف سے ستمبر میں گلگت بلتستان میں ایمپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر کے نفاذ کے بعد، جس کے تحت گلگت بلستان کو نئی انتظامی حثیت متعین کی گئی، یہ پہلے انتخابات ہیں۔

اس آرڈر کے تحت گلگت بلتستان کو صوبے کا درجہ تو نہیں دیا گیا لیکن اس کے تحت پہلی بار گورنر مقرر کیا گیا اور وزیر برائے امور کشمیر قمر الزمان کائرہ گلگت بلتستان کے پہلے قائم مقام گورنر ہیں اور انتخاب کے بعد قانون ساز اسمبلی پہلی مرتبہ وزیر اعلیٰ منتخب کرے گی۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔