Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Wednesday, 11 november, 2009, 10:32 GMT 15:32 PST

’این آر او پر عدلیہ کا فیصلہ منظور ہوگا‘

فائل فوٹو، وزیراعظم یوسف رضا گیلانی

پرویز مشرف نے جو زبان استعمال کی ہے ان سے کچھ اور توقع نہیں کی جا رہی تھی: وزیراعظم

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ ملک میں عدلیہ آزاد ہے اور قومی مفاہمتی آرڈیننس یعنی این آر او کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو حکومت تسلیم کرے گی۔

بدھ کو اسلام آباد میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ انھیں این آر او پارلیمنٹ میں لانے کا کوئی شوق نہیں تھا۔ سپریم کورٹ کے حکم پر ہی این آر او پارلیمنٹ میں لایا گیا اور پھر پارلیمنٹ میں اکثریت کی رائے کا احترام کرتے ہوئے این آر او کو پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا جا رہا۔

ان کے بقول انھوں نے عوامی رائے کا احترام کیا ہے اور اب بھی این آر کے بارے میں سپریم کورٹ کا جو بھی فیصلہ ہو گا حکومت اسے تسلیم کرے گی۔

صدر آصف علی زرداری کے بارے میں سابق صدر پرویز مشرف کے بیان پر وزیر اعظم نے کہا کہ ’پرویز مشرف نے جو زبان استعمال کی ہے تو ان سے کچھ اور توقع نہیں کی جا رہی تھی‘۔

یاد رہے کہ منگل کو قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان نے کہا تھا کہ سابق صدر پرویز مشرف نے اپنے بیان میں صدر آصف علی زرداری کی تذلیل کی ہے جس پر حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کو اس پر احتجاج کرنا چاہیے تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ انھیں خود صدر آصف علی زرداری کے بارے میں تحفظات ہیں لیکن وہ صدر کے بارے میں اس طرح کے بیان کی اجازت نہیں دے سکتے۔

قائد حزب اختلاف کی اس تقریر پر وفاقی وزیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے کہا تھا کہ پرویز مشرف کوئی سیاستدان یا منتخب نمائندے نہیں ہیں اس لیے وہ اس پر کوئی رد عمل دینا ضروری نہیں سمجھتے۔ انھوں نے کہا تھا کہ اگر پاکستان میں کوئی عدالت پرویز مشرف کے وارنٹ جاری کرتی ہے تو حکومت مخالفت نہیں کرے گی۔

سی این جی سٹیشنز کو دو روز تک بند رکھنے کی پالیسی کا مقصد صنعتوں کی کارکردگی کو بہتر کرنا ہے اس کے لیے عوام دو روز تک اپنی گاڑیوں میں پیٹرول استعمال کریں اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا

وزیراعظم گیلانی

وزیر اعظم نے قومی اسمبلی میں سابق صدر پرویز مشرف کے بیان پر کسی قسم کا کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا تھا۔ انھوں نے بدھ کو صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ سی این جی سٹیشنز کو دو روز تک بند رکھنے کی پالیسی کا مقصد صنعتوں کی کارکردگی کو بہتر کرنا ہے اور اس کے لیے عوام دو روز تک اپنی گاڑیوں میں پیٹرول استعمال کریں اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں آپریشن کے بارے میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ یہ حکومت کے لیے چیلنج ہے اور اس کے لیے انھیں عوام کی حمایت چاہیے۔ اس میں دہشت گردوں کا نشانہ فوج اور دیگر سکیورٹی ادارے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ فوجی کارروائی سے شدت پسند متاثر ہوئے ہیں جس کا رد عمل سامنے آ رہا ہے۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ دہشت گردوں کا کوئی دین نہیں ہوتا اور یہی وجہ ہے کہ شدت پسند اب بچوں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں اس لیے عوام کو بھی ان لوگوں کے خلاف متحد ہونا چاہیے اور ایسے لوگوں کی نشاندہی کریں تاکہ شدت پسندوں کو گرفتارکیا جائے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔