Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Wednesday, 11 november, 2009, 16:44 GMT 21:44 PST

دھان کے نرخ، اپوزیشن کا واک آؤٹ

وزیراعظم نے وزراء پر پابندی عائد کی ہے کہ وہ کسی بھی حلقے میں اراکین اسمبلی کے فنڈز سے بننے والے ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح نہیں کریں گے

بدھ کو پاکستان میں دھان کی فصل حکومت کی جانب سے مقرر کردہ نرخوں پر نہ خریدنے کے خلاف حزب مخالف نے قومی اسمبلی میں احتجاج کرتے ہوئے علامتی واک آؤٹ کیا۔

وقفہ سوالات کے دوران وزیر خوراک و زراعت نذر محمد گوندل نے ایوان کو بتایا کہ وفاقی حکومت نے چاروں صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر کسانوں سے فصل خریدنے کا فیصلہ کیا لیکن بعد میں صوبائی حکومتوں نے اپنا فیصلہ تبدیل کیا اور مشکلات پیدا ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ’پاسکو‘ نے بیس خریداری مرکز قائم کیے ہیں اور مزید بھی قائم کیے جا رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ پوری فصل خریدنے کی وفاقی حکومت کے پاس گنجائش نہیں ہے۔ جس پر مسلم لیگ (ن) کے رکن چوہدری تنویر اور مسلم لیگ (ق) کے رکن رضا حیات ہراج نے کہا کہ پنجاب کے چاول پیدا کرنے والے بیشتر اضلاع میں تاحال ایک بھی خریداری مرکز قائم نہیں کیا گیا۔ اس دوران مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر مخدوم جاوید ہاشمی نے حکومت سے اطمینان بخش جواب نہ ملنے پر ایوان سے واک آؤٹ کا اعلان کیا۔

وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے تمام وزراء پر پابندی عائد کی ہے کہ وہ کسی بھی حلقے میں اراکین اسمبلی کے فنڈز سے بننے والے ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح نہیں کریں گے۔

یہ اعلان انہوں نے حزب مخالف کی جانب سے کی جانے والی شکایت کے بعد بدھ کی شام کو قومی اسمبلی سے خطاب میں کیا۔ قبل ازیں مسلم لیگ (ن) کے رکن ایاز امیر نے شکایت کی کہ چکوال میں ان کے حلقے میں وزیر خوراک وزراعت نذر محمد گوندل نے ایک منصوبے کا افتتاح کیا ہے۔

بدھ کو قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران چوہدری برجیس طاہر کے سوال کے جواب میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پیش کردہ اپنے تحریری جواب میں بتایا کہ کیری لوگر بل کے تحت ملنے والی سالانہ ڈیڑھ ارب ڈالر کی امداد سنہ دو ہزار دس سے چودہ تک کے لیے ہے جس کی توسیع سنہ دو ہزار پندرہ سے دو ہزار انیس تک کی جاسکتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ امدادی رقم پاکستان میں جمہوری استحکام، عوامی حکمرانی کو مضبوط کرنے، قانون کی حکمرانی کا قیام، انسانی حقوق، شہری تنظیموں کو فعال کرنے، اقتصادی آزادی اور ترقی، فوجی آپریشن سے متاثرہ افراد کو امداد فراہم کرنے، عوامی سفارتکاری کو فروغ دینے اور انتہا پسندی کی سوچ کو روکنے کے لیے خرچ کی جائے گی۔

وزیر خارجہ نے بتایا ہے کہ سنہ دو ہزار دس میں پندرہ کروڑ ڈالر کی رقم پولیس کی تربیت اور جدید اسلحہ اور آلات کی فراہمی پر خرچ ہوں گے۔ ہر سال اس رقم میں سے ایک کروڑ ڈالر امریکی حکومت انتظامی امور پر خرچ کرے گی۔ ان کے مطابق تین کروڑ ڈالر آڈٹ پر خرچ ہوں گے اور پچاس لاکھ ڈالر امریکی سیکریٹری خارجہ کے فنڈ کے لیے مختص ہوں گے۔ وزیر کے مطابق اس فنڈ کا مقصد انسانی ریلیف کے لیے رقم فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے ایوان کو بتایا کہ بل میں یہ نکات بھی ہیں کہ امریکی صدر براک اوباما پاکستانی تنظیموں، کمپنیوں اور مقامی این جی اوز کے ذریعے رقم خرچ کرنے کی حوصلہ افزائی کریں گے۔

وزیر کے مطابق اس امداد سے توانائی اور انفرا سٹرکچر کے ایسے منصوبے جو پاکستان اور افغانستان دونوں کے لیے مفید ہوں، ان کے لیے بھی سرمایہ کاری کی جائے گی۔ جبکہ مدارس، نجی اور سرکاری تعلیمی اداروں کے نصاب کی بہتری پر بھی اس امداد سے رقم خرچ ہوگی۔

وزیر خارجہ نے بتایا ہے کہ سنہ دو ہزار دس میں پندرہ کروڑ ڈالر کی رقم پولیس کی تربیت اور جدید اسلحہ اور آلات کی فراہمی پر خرچ ہوں گے۔ ہر سال اس رقم میں سے ایک کروڑ ڈالر امریکی حکومت انتظامی امور پر خرچ کرے گی۔ ان کے مطابق تین کروڑ ڈالر آڈٹ پر خرچ ہوں گے اور پچاس لاکھ ڈالر امریکی سیکریٹری خارجہ کے فنڈ کے لیے مختص ہوں گے۔ وزیر کے مطابق اس فنڈ کا مقصد انسانی ریلیف کے لیے رقم فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے ایوان کو بتایا کہ بل میں یہ نکات بھی ہیں کہ امریکی صدر براک اوباما پاکستانی تنظیموں، کمپنیوں اور مقامی این جی اوز کے ذریعے رقم خرچ کرنے کی حوصلہ افزائی کریں گے۔

وزیر خارجہ نے تسنیم صدیقی کے سوال پر ایوان کو بتایا کہ وزارت خارجہ میں تیرہ سو تئیس ملازمین میں سے صرف بیاسی خواتین ہیں۔ ان کے مطابق ساڑھے چار سو افسران میں سے خواتین صرف باون ہیں۔ جبکہ آٹھ سو چالیس کے قریب سٹاف میں سے صرف تیس خواتین ہیں۔ راجہ محمد اسد خان کے سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ دنیا کے ستر ممالک میں پاکستان کے سفارتخانے کرائے کی عمارتوں میں کام کر رہے ہیں۔

شیریں ارشد خان کے سوال کے جواب میں وزیر صحت اعجاز جکھرانی نے ایوان کو بتایا کہ سنہ دو ہزار آٹھ اور نو کے دوران دو سال میں حکومت نے چار ارب اٹھاون کروڑ اٹھاسی لاکھ چھیانوے ہزار روپوں سے زیادہ رقم پولیو کی ویکسین کی خریداری پر خرچ کیے جبکہ سنہ دو ہزار پانچ سے تاحال ڈیڑھ کروڑ روپوں سے زیادہ مالیت کی سندھ میڈیکل سٹور کراچی سے ہیپاٹائیٹس کی ویکسین خریدی گئی۔

حکومت نے جوہری اثاثوں کی حفاظت اور ان کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سزاؤں کے تعین کے متعلق سنہ دو ہزار پانچ میں پرویز مشرف کے جاری کردہ آرڈیننس کو قانون کی شکل دینے کے متعلق جو بل سنہ دو ہزار سات میں تیار کیا گیا تھا اس کے متعلق ایوان کی دفاع کے بارے میں کمیٹی کی رپورٹ بھی ایوان میں پیش کی۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔