یہ بھی اطلاعات ہیں کہ بدھ کی صبح جیٹ طیاروں نے تحصیل بیزئی کے علاقے میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جس میں دس عسکریت پسند ہلاک ہوگئے ہیں تاہم مقامی طورپر اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

جھڑپوں کے بعد کئی سکیورٹی اہلکار لاپتہ ہوگئے ہیں جن کی تلاش کا کام جاری ہے: مقامی افراد
پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان دو مختلف جھڑپوں میں دس اہلکار ہلاک اور چار زخمی ہوئے ہیں۔
مہمند ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی گاڑی پر حملے میں آٹھ سکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ دو زخمی ہوگئے۔ اس حملے میں ایک راہ گیر بھی ہلاک ہوا۔
فرنٹیئر کور میڈیا سیل کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ بدھ کی شام تحصیل صافی کے علاقے دوجنگی میں اس وقت پیش آیا جب سکیورٹی فورسز کی ایک گاڑی بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی۔ انہوں نے کہا کہ دھماکے میں آٹھ سکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ دو زخمی ہوگئے ہیں۔
اس سے قبل ایک بدھ ہی کو سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپوں میں دو اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوگئے تھے۔ سکیورٹی فورسز کے جوابی حملوں میں دس شدت پسندوں کے مارے جانے اور ان جھڑپوں کے دوران کئی سکیورٹی اہلکاروں کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات بھی ہیں۔
مہمند ایجنسی کے ایک اعلٰی سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ منگل کی شام سکیورٹی فورسز کے دستے تحصیل بیزئی کے علاقے بیدمنی کنڈاؤ کی طرف جا رہے تھے کہ راستے میں شدت پسندوں نے ان پر حملہ کردیا۔
انہوں نے کہا کہ حملے میں دو اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوگئے ہیں۔ تاہم مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے اہلکاروں کو شدت پسندوں نے یرغمال بنا لیا تھا اور بعد میں انہیں گلا کاٹ کر ہلاک کردیا گیا۔ ان کے مطابق حملے میں سکیورٹی فورسز کی چار گاڑیاں بھی تباہ ہوگئی ہیں۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جھڑپوں کے بعد کئی سکیورٹی اہلکار لاپتہ ہوگئے ہیں جن کی تلاش کا کام جاری ہے۔
یہ بھی اطلاعات ہیں کہ بدھ کی صبح جیٹ طیاروں نے تحصیل بیزئی کے علاقے میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جس میں دس عسکریت پسند ہلاک ہوگئے ہیں تاہم مقامی طورپر اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔
ایف سی کے ترجمان نے مزید کہا کہ بدھ کی صبح جیٹ طیاروں نے تحصیل بیزئی کے علاقے میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جس میں بیس عسکریت پسند ہلاک ہوگئے ہیں تاہم مقامی طور پر اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔
ُادھر مہمند ایجنسی میں تحریک طالبان کے ترجمان اکرم اللہ مہمند نے سکیورٹی فورسز پر حملوں میں دس اہلکاروں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ غنم شاہ کے علاقے میں سکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملہ کیا گیا جس میں ان کے بقول آٹھ اہلکار ہلاک ہوگئے جب کہ یرغمال بنائے گئے دو ایف سی اہلکاروں کو بھی ’غداری‘ کرنے پر قتل کردیا گیا۔ تاہم طالبان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی۔
خیال رہے کہ مہمند ایجنسی میں سکیورٹی فورسز نے گزشتہ دو تین ماہ سے عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ اگرچہ ابھی تک حکومت نے علاقے میں باقاعدہ آپریشن کا اعلان نہیں کیا ہے تاہم جب بھی قانون نافذ کرنے والے اداراوں پر حملے ہوتے ہیں تو فورسز کی طرف سے بھر پور جواب دیا جاتا ہے۔
© MMIX