
پولیس کے مطابق افضل خان عرف نیرے کا تعلق بونیر سے ہے اور چغرزئی کا کمانڈر تھا
کراچی میں پولیس نے دو مبینہ شدت پسندوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جن کا تعلق تحریک طالبان سے بتایا گیا ہے۔
ایس پی سپیشل انویسٹی گیشن یونٹ راجہ عمر کا کہنا ہے کہ ملزمان افضل خان اور روشن اقبال کو پیر الٰہی بخش کالونی اور عابدآباد سے گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزمان سے ایک کلاشنکوف، دو دستی بم اور ایک پسٹل برآمد کی گئی ہے۔
پولیس کے مطابق ملزمان کا تعلق کالعدم تنظیم تحریک طالبان سے ہے اور وہ سکیورٹی فورسز پر حملوں اور سکول میں دھماکوں میں ملوث ہیں۔ روشن اقبال کا تعلق مولوی فضل اللہ کی طرف سے خوازہ خیلہ میں نامزد کمانڈر ادریس سے بتایا گیا ہے۔
’ملزم نے انکشاف کیا ہے کہ اس نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ خوازہ خیلہ کے قریب روڈ کے کنارے بم نصب کرکے ایک این جی او کی گاڑی پر حملہ کیا جس میں پانچ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اس طرح چار گورنمنٹ سکولوں کو آگ لگائی تھی۔‘
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم افضل خان عرف نیرے کا تعلق بونیر سے ہے اور چغرزئی کا کمانڈر تھا اور دوران تفتیش اس نے گیارہ سکولوں کو نذر آتش کرنے اور بونیر میں یوٹیلٹی سٹورز کو لوٹنے کا اعتراف کیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ فوجی آپریشن کے بعد طالبان کمانڈروں نے ملزمان کو کراچی میں روپوش ہونے کی ہدایت کی تھی۔
دوسری جانب صوبائی وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے حکم جاری کیا ہے کہ شہریوں کے مسائل کے حل کے لیے صوبائی وزرا،ء مشیروں اور سرکاری حکام کی جانب سے منعقد کی جانے والی کھلی کچہریوں کا باقاعدہ شیڈول حاصل کرکے سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے جائیں۔
ایک اعلامیے کے مطابق صوبائی وزیر نے پولیس کو ہدایت کی ہے کہ اہم سرکاری عمارتوں میں پارکنگ روٹس کی کڑی نگرانی کے ساتھ دفاتر میں آنے والی عوام کے شناختی کارڈ اور دفاتر میں کام کرنیوالے عملے کے سروس کارڈز کی تصدیق کی جائے اور دفتری اوقات سے قبل اہم سرکاری عمارتوں کی تلاشی لی جائے۔
انہوں نے پولیس کو یہ بھی ہدایت کی کہ صوبے کے تمام تفریحی مقامات، پارکس، چڑیا گھروں، ساحل سمندر، ریلوے سٹیشنوں، بس ٹرمینلز، ٹرکس سٹینڈ اور مویشی منڈیوں کی تمام تر انتظامات کو یقینی بنایا جائے۔
© MMIX