
درخواستوں میں جو زبان استعمال کی گئی ہے وہ عدالت پر الزامات لگانے کے مترادف ہے: جسٹس غلام ربانی
سپریم کورٹ کے ایک رکنی بینچ نے غیر آئینی قرار دیے جانے والے سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی اپیل خارج کر دی ہے۔
سابق چیف جسٹس کی طرف سے اکتیس جولائی کے فیصلے اور چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمت پانچ ججوں کی تعیناتی کو چیلنج کرنے کے بارے میں دائر درخواستوں پر رجسٹرار آفس کی طرف سے لگائے جانے والے اعتراضات کے خلاف اپیل دائر کی گئی تھی۔
عبدالحمید ڈوگر کے وکیل نعیم بخاری کا کہنا ہے کہ ایک رکنی بینچ کا تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد اس کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کرنےکا فیصلہ کریں گے۔
سپریم کورٹ کے ایڈہاک جج غلام ربانی نے چیمبر میں ان درخواستوں کی سماعت کی۔ ان درخواستوں پر رجسٹرار آفس کی طرف سے اعتراضات لگائے گئے تھے کہ سابق ججوں کی طرف سے اکتیس جولائی کے فیصلے کے خلاف دائر کی جانے والی درخواستوں کو پہلے ہی ناقابل سماعت قرار دے چکی ہے۔
اعتراضات میں مزید کہا گیا ہے کہ ججوں کے سٹیٹس کو کسی طور پر بھی چیلنج نہیں کیا جاسکتا اس کے علاوہ ان درخواستوں میں جو زبان استعمال کی گئی ہے وہ عدالت پر الزامات لگانے کے مترادف ہے۔
عبدالحمید ڈوگر کے وکیل نعیم بخاری نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ درخواست میں استعمال کی گئی زبان کے بارے میں اعتراض کرنا رجسٹرار کا نہیں بلکہ جج کا کام ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں اُن فقروں کی نشاندہی نہیں کی گئی جن پر اعتراضات لگائے گئے تھے۔
نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ سابق صدر پرویز مشرف کی طرف سے تین نومبر سنہ دوہزار سات کو ملک میں لگائی جانے والی ایمرجنسی کے خلاف سپریم کورٹ کے اکتیس جولائی کے فیصلے میں اکانوے بار عبدالحمید ڈوگر کا ذکر کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ اکتیس جولائی کے فیصلے اور افتخار محمد چوہدری سمیت سپریم کورٹ کے پانچ ججوں کی دوبارہ تعیناتی کے خلاف عبدالحمید ڈوگر نے دو درخواستیں دائر کی تھیں۔
عدالت نے تین نومبر سنہ دوہ ہزار سات کو ملک میں ایمرجنسی کے بعد پی سی او کے تحت حلف اُٹھانے والے اعلی عدالتوں کے ججوں کو توہین عدالت کے نوٹسز جاری کیے تھے جن میں سے چھپن سے زائد ججوں نے عدالت سے غیر مشروط معافی مانگ لی تھی جبکہ عبدالحمید ڈوگر سمیت نو ججوں نے توہین عدالت کے نوٹسز کے جوابات داخل کروائے تھے۔ عدالت نے توہین عدالت کے مقدمے کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی ہے۔
© MMIX