
ہڑتال کے موقع پر شہر بھر میں دکانیں بند ہیں
پاکستان کے صوبہ سرحد میں منگل کی شام ہونے والے خودکش حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد اٹھائیس تک پہنچ گئی ہے جبکہ شہر میں دھماکے کے خلاف تین روزہ سوگ کے پہلے دن مکمل ہڑتال ہے۔
کلِک چارسدہ میں دھماکے سے تباہی: تصاویر میں
چارسدہ بازار کے ایک مصروف علاقے فاروق اعظم چوک میں ہونے والے اس دھماکے سے جانی نقصان کے علاوہ بازار میں واقع متعدد دکانیں بھی تباہ ہو گئی تھیں۔
ضلع چارسدہ کے ضلعی رابطہ آفسر عبدالجبار خان کا کہنا ہے کہ انہیں جو رپورٹیں موصول ہوئی ہیں ان کے مطابق اب تک ہلاکتوں کی تعداد اٹھائیس ہو چکی ہے جبکہ اٹھاسی افراد زخمی ہیں۔ انہوں نے ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے۔
عبدالجبار خان کے مطابق تفتیش جاری ہے اور یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ حملے کا ٹارگٹ کون تھا۔ ان کے بقول دھماکہ ایک بازار میں ہوا ہے لیکن اس سے چند منٹ قبل چارسدہ کے پولیس سربراہ محمد ریاض خان بھی وہاں سے گزرے تھے۔ ان کے بقول صورتحال کا مکمل جائزہ لینے کے بعد ہی اس بارے میں حتمی طور پر کچھ کہا جا سکتا ہے۔
تفتیش جاری ہے اور یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ حملے کا ٹارگٹ کون تھا۔
ڈی سی او چارسدہ
ادھر چارسدہ دھماکے میں انسانی جانوں کے ضیاع اور املاک کی تباہی کے خلاف چارسدہ میں بدھ کو مکمل ہڑتال کی گئی ہے۔ اس ہڑتال کی اپیل مقامی سیاسی اور تاجر تنظیموں نے کی تھی۔ سیاسی اور تاجر تنظیموں نے تین روزہ سوگ کا بھی اعلان کیا ہے۔
ہڑتال کے موقع پر شہر بھر میں دکانیں بند ہیں اور مختلف مقامات پر سیاہ پرچم لہرائے گئے ہیں۔ ایک دکاندار ارشد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ شہر سنسان پڑا ہے اور بازار میں بہت ہی کم لوگ نظر آ رہے ہیں۔ ان کے بقول شہر کی فضا میں اب بھی خوف کا عنصر موجود ہے۔
خیال رہے کہ چارسدہ پشاور سے متصل واقع ایک ضلع ہے جس کی سرحدیں مہمند ایجنسی سے بھی ملتی ہیں۔ اس پہلے بھی یہاں پر پولیس اہلکاروں پر متعدد بار حملے ہوچکے ہیں تاہم بم دھماکے واقعہ کافی عرصہ کے بعد پیش آیا ہے۔
© MMIX