
’حکومت کو برداشت کا مظاہرہ کرتے ہوئے صحافیوں کو جنوبی وزیرستان کے مختلف علاقوں کا آزادانہ دورہ کرنے کی اجازت دینی چاہیے‘
صحافیوں کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم رپورٹر سانز فرنٹیئرز نے الزام لگایا ہے کہ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ذرائع ابلاغ پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ وزیرستان آپریشن کے حوالے سے اپنی کوریج میں صرف حکومت کی فراہم کردہ معلومات پر انحصار کریں۔
رپورٹر سانز فرنٹیئرز نے اپنے ایک تازہ بیان میں مطالبہ کیا ہے کہ حکومت پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں جاری فوجی کارروائی کی بہتر کوریج کی خاطر وہاں پر میڈیا کی رسائی کو ممکن بنایا جائے۔
بیان میں کہا گیا ہے ’ہمیں صحافیوں کو درپیش خطرات کا علم ہے لیکن وزیرستان تک پاکستانی اور غیر ملکی صحافیوں کی عدم رسائی بھی غیر تسلی بخش ہے۔ پاکستانی فوج جو وہاں پر اس وقت ایک بڑی کارروائی میں مصروف ہے، نہ صرف میڈیا کو جنگ زدہ علاقوں میں جانے کی اجازت نہیں دے رہی ہے بلکہ اس سے بے گھر افراد کے لیے قائم کیمپوں میں بھی جانے سے روک رہی ہے جس کے نتیجے میں جنوبی وزیرستان میڈیا اور امدادی اداروں کے لیے بند ہوگیاہے۔‘
تنظیم کا مزید کہنا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب ٹیلی ویژن چینلز نے سکیورٹی صورتحال سمیت کئی معاملات پر اپنا ایک ضابطہ اخلاق کا اعلان کرد یا ہے لہٰذا حکومت کو بھی جوابی طور پر برداشت کا مظاہرہ کرتے ہوئے صحافیوں کو جنوبی وزیرستان کے مختلف علاقوں کا آزادانہ دورہ کرنے کی اجازت دینی چاہیے۔
آر ایس ایف کے بیان کے مطابق قبائلی علاقوں بالخصوص وہاں کے عام شہریوں کی حالت زار کے بارے میں آزادانہ رپورٹنگ کا نہ ہونا شفافیت کی خلاف ورزی ہے۔ بیان کے مطابق’علاقے میں صرف فوجی فتوحات کی تصدیق کے لیے ذرائع ابلاغ کو وہاں جانے کی اجازت دینا ایک ناقابل قبول عمل ہے۔‘
صحافیوں کی تنظیم نے پاکستانی فوج پر الزام لگاتے ہوئے کہا ’پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے افسران کئی ہفتوں سے میڈیا پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ اپنی کوریج میں صرف حکومت کی فراہم کردہ معلومات کو ہی استعمال کرلیا کریں۔‘
جنوبی وزیرستان سے بے گھر ہونے والے افراد کی حالتِ زار جاننے کے لیے محض چند صحافیوں کو ڈیرہ اسماعیل خان میں ان سے ملنے کی اجازت دی گئی ہے جبکہ میڈیا کو مکمل آزادی کے ساتھ ان افراد تک رسائی حاصل نہیں ہے۔
آر ایس ایف
آر ایس ایف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستانی فوج اپنی فتوحات دکھانے کے لیے صحافیوں کو جنوبی وزیرستان کے دو دورے کراچکی ہے اور ان دوروں میں اسلام آباد اور پشاور سے جانے والے صحافیوں کو آزادانہ طور پر گھومنے پھرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔
بیان کے مطابق جنوبی وزیرستان سے بے گھر ہونے والے افراد کی حالتِ زار جاننے کے لیے محض چند صحافیوں کو ڈیرہ اسماعیل خان میں ان سے ملنے کی اجازت دی گئی ہے جبکہ میڈیا کو مکمل آزادی کے ساتھ ان افراد تک رسائی حاصل نہیں ہے۔
اس بارے میں آر ایس ایف نے غیر ملکی صحافیوں کی مثال دی ہے جنہیں تنظیم کے بقول ڈیرہ اسماعیل جاتے ہوئے صوبہ سرحد اور پنجاب کی سرحد پر واقع شہر میانوالی میں پولیس نے روک کر واپس کردیا۔ بیان میں ایک غیر ملکی صحافی کا ذکر کیا گیا جن کا نام ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے تنظیم کو بتایا ہے کہ ’مجھے میانوالی میں کئی گھنٹے تک پولیس نے حراست میں رکھا‘۔
یاد رہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے پاکستانی حکام ملکی اور غیر ملکی صحافیوں کو صوبہ سرحد بالخصوص قبائلی علاقوں کے ان علاقوں میں جہاں طالبان کا کنٹرول یا اثر و رسوخ زیادہ ہے جانے کی اجازت نہیں دے رہی ہے اور اگر کسی نے کبھی چوری چھپے کوشش بھی ہے انہیں یا تو گرفتار یا پھر واپس کردیا گیا ہے۔ قبائلی علاقوں سے پیشہ ورانہ خطرات کی وجہ سے درجنوں صحافیوں نے وہاں سے نقل مکانی کی ہے جس کی وجہ سے وہاں سے باہر کی دنیا کو درست اور قابل اعتماد معلومات موصول ہونے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔
© MMIX