
پرفیوم چوک کا نام بھتہ خوروں کے خلاف ایک احتجاج ہے
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے کسی بھی علاقے میں چلے جائیں مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے مختلف نعروں کی وال چاکنگ نظر آئےگی مگر ایک چاکنگ ایسی بھی ہے جو غیر سیاسی تو ہے مگر پورے شہر کے اکثر نمایاں علاقوں اور سڑکوں پر یکساں موجود ہے۔ وہ ایک ہی نعرے نما اشتہار ہے ’پرفیوم چوک گلستان جوہر۔‘
پاکستان کے ایک ممتاز تفریحی چینل ہم ٹی وی پر آجکل ایک ڈرامہ سیریز بھی پرفیوم چوک کے نام سے شروع کی گئی ہے۔ پرفیوم چوک کی اتنی پذیرائی سننے کے بعد ذہن میں خوشبؤں کے سپر سٹورز سے بھرے چوراہے کا تصور آتا ہے۔ایسے ہی ایک سپر سٹور کی تلاش میں گلستان جوہر پہنچا جہاں سپر سٹور تو نہیں تھا مگر ایک ایسا کیبن ضرور تھا جیسی اخبار کے ہاکر سڑک کنارے لگاتے ہیں۔ معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ پورے شہر میں پرفیوم چوک کی چاکنگ کے ذمہ دار بھی اسی کیبن کے مالک مرسلین خان سبزواری ہیں۔
مرسلین خان کا کہنا تھا کہ گلستان جوہر میں اس چوک کا سن دوہزار سے پہلے کوئی نام نہیں تھا۔ لوگ اس کونے کو کچرا کنڈی کہتے تھے۔ مگر ان کی وال چاکنگ مہم کے بعد پورے شہر میں پرفیوم چوک مقبول ہوا۔ علاقے کا بس اڈہ اور لوگوں کے پتے ا س نام سے منسوب ہوئے۔ مرسلین کے مطابق اور تو اور لوگوں نے اپنے کپمیوٹرائزڈ شناختی کارڈ میں رہائش نزد پرفیوم چوک لکھوادی ہے۔
تو اس قسم کی اشتہار بازی کرنے سے ان کے کاروبار کو کوئی فائدہ پہنچا ہے؟ میرے اس سوال کے جواب میں مرسلین خان نے بتایا کہ پرفیوم چوک گلستان جوہر نامی وال چاکنگ پبلسٹی نہیں میرا احتجاج ہے ان قوتوں کے خلاف جنہوں نے دس سال کے عرصے میں میرا سٹال دس مرتبہ توڑا، لوٹا، جلایا اور پیٹرول بم سے اڑایا ہے۔
مرسلین خان کے مطابق علاقے کے بھتہ خور اور سازشی عناصر ان سے بھتہ وصول کرنا چاہتے تھے مگر انہوں نے فیصل کینٹونمنٹ بورڈ میں ہاکر فیس جمع کرادی تھی اور ان کا سٹال غیرقانونی نہیں تھا تو وہ بھتہ کیوں دیتے۔؟

مرسلین خان کے مطابق سن دو ہزار میں جب ان کا سٹال توڑا گیا اور اسے کاروبار کرنے سے منع کیا گیا تو اس نے قسم اٹھائی کہ اس چوراہے کا نام پرفیوم چوک مشہور کردونگا۔ان کے مطابق جس طرح مختلف سیاسی سماجی تنظمیں اپنا مطلب بیان کرنے کے لیے دیواروں کا سہارا لیتے ہیں اسی طرح انہوں نے سپرے خریدا اور شہر کی دیوراوں پر، خوشبو سب کے لیے، پرفیوم چوک گلستان جوہر، لکھنا شروع کیا۔
انہوں نے نو سال مسلسل کراچی کی دیواروں پر سپرے کیا۔ وہ رات کو دو بجے سٹال بند کرنے کے بعد اپنی پرانی موٹر سائیکل پر سوار ہوکر کسی نہ کسی سمت نکل جاتے تھے اور شہر کے اہم چوراہوں اور دیواروں پر صرف اتنا لکھتے جاتے تھے کہ، پرفیوم چوک گلستان جوہر،۔ مرسلین کے مطابق وال چاکنگ کے لیے انہوں نے اپنی کمائی کا پانچ فیصد مختص کر دیا تھا۔
مرسلین خان کا کہنا ہے کہ رات کے وقت چاکنگ کرتے ہوئے کئی مرتبہ انہیں پولیس اور لڑکوں نے پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا ہے اور وہ بعض مرتبہ زخمی بھی ہوئے ہیں مگر انہوں نے اپنی مہم جاری رکھی ہے۔

مرسلین سبزواری ایک چلتے پرزے کے نام سے جانے جاتے ہیں
مرسلین اپنے علاقے میں ایک ، چلتے پرزے، کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے فوج، پولیس اور محکمہ تعلیم میں ملنے والی نوکریاں چھوڑ دی ہیں۔اور وہ اپنے تین بچوں ایک بیوی کے ساتھ کرایے کے مکان میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ وال چاکنگ اس کی پبلسٹی مہم نہیں بلکہ احتجاج ہے ان قوتوں کے خلاف جن لوگوں نے اسے وہاں سے سٹال ہٹانے کے لیے تشدد کا نشانہ بنایا۔
مرسلین خان کے مطابق کل تک میرا سٹال ان لوگوں کو تجاوزات اور ٹریفک کے مسائل کی جڑ نظر آتا تھا مگر اسی چوراہے پر ان لوگوں نے چار دیواری بنا کر اپنے سیاسی رہنماء کی قد آمد تصاویر لگادی ہیں اور اب ان کو ٹریفک اور محلے کے مسائل کی پریشانی نہیں ہے۔
مرسلین کا کہنا ہے کہ ان کے کام سے محبت کرنے والے لوگوں نے پاکستان کے مختلف شہروں میں ان کا پیغام پہنچا دیا ہے کہ ، خوشبو سب کے لیے پرفیوم چوک گلستان جوہر،۔ وہ پرامید ہیں کہ اپنی مہم جاری رکھیں گے۔
گلستان جوہر کے علاقے میں مین شاہراہ پر مرسلین نے خوشبؤں کی کیبن کے قریب وہ پینافلیکس فوٹو لگادیا ہے جو ہم ٹی وی کی ڈرامہ سیریل کا اشتہار ہے۔ ہم ٹی وی کے پینافلیکس کو خوشی سے دیکھ کر مطمئن لہجے میں وہ کہتے ہیں جو نعرہ انہوں نے دیوار پر لکھنا شروع کیا تھا وہ اب ٹی وی سکرین پر آگیا ہے۔
© MMIX