
این آر او کے تحت صدر زرداری پر سے متعدد مقدمات ختم کر دیے گئے تھے
پاکستان سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر قاضی محمد انور ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ آصف علی زرداری این آر او کے معاملے میں بطورِ صدر آئین کے آرٹیکل دو سو اڑتالیس سے مستثنٰی نہیں ہیں لہذا انہیں اپنے عہدے سے مستعفی ہو جانے کا مشورہ دینا درست ہے۔
قاضی محمد انور نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل دو سو اڑتالیس کے تحت صدر مملکت اپنے ان اقدامات کے سلسلے میں جو انہوں نے صحیح نیت کے ساتھ کیے ہوں اس وقت تک عدالت کے سامنے جوابدہ نہیں ہیں جب تک وہ صدر کے عہدے پر فائز ہیں تاہم عہدہ چھوڑنے کے بعد وہ اپنے ان اقدامات کے لیے جوابدہ ہیں۔
ان کے بقول آئین کی شق دو سو اڑتالیس صدر مملکت آصف علی زرداری پر اس لیے لاگو ہوتی ہے کیونکہ این آر او کے تحت انہیں جن مقدمات میں معافی ملی ہیں وہ صدر بننے سے پہلے ہی ان کے خلاف قائم کیے گئے تھے لہذا وہ اس وقت مذکورہ آئینی دفعہ کے تحت عدالت کے سامنے جوابدہ ہیں۔
صدر مملکت آصف علی زرداری کو مستقبل میں کسی بھی قسم کی شرمندگی سے بچنے کے لیے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا مشورہ دینا درست ہے
قاضی محمد انور
قاضی محمد انور کا مزید کہنا تھا کہ آصف علی زرداری پر صدر منتخب ہونے سے قبل قتل، ڈکیتی، ہیروئن کی سمگلنگ اور کمیشن لینے کے الزامات کے تحت کئی مقدمات درج ہیں۔ ان کے بقول ’صدر مملکت آصف علی زرداری کو مستقبل میں کسی بھی قسم کی شرمندگی سے بچنے کے لیے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا مشورہ دینا درست ہے‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن حالات کا جائزہ لے رہی ہے اور اس قسم کی صورتحال پر خاموش نہیں رہ سکتی۔ ان کے مطابق وہ قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں کیونکہ قانون کے سامنے ایک عام آدمی اور صدر دونوں ایک جیسے ہی جوابدہ ہیں۔
خیال رہے کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کا یہ بیان ممتاز قانون دان اعتزاز حسن کے اس بیان کے ایک روز بعد آیا ہے جس میں انہیں نے کہا تھا کہ این آر او ختم ہونے پر آصف علی زرداری کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوسکتی اور جب تک وہ صدر ہیں انہیں آئین کے آرٹیکل دو سو اڑتالیس کے تحت عدالت میں پیش نہ ہونے کا آئینی تحفظ حاصل ہے۔
© MMIX