
انسانی اعضاء کی رضاکارانہ فراہمی کے بارے میں عوام میں آگہی مہم جلد شروع کی جائے گی
صحت کے حوالے سے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے انسانی اعضاء کی پیوند کاری کے بارے میں بل مجریہ دو ہزار سات کی متفقہ طور پر منظوری دے دی ہے۔
قائمہ کمیٹی کی طرف سے اس بل کی منظوری کے بعد اس بات کا امکان ہے کہ اس بل کو قومی اسمبلی کے رواں اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔
کمیٹی کا اجلاس ندیم احسان کی سربراہی میں منگل کے روز پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا جس میں انسانی اعضاء کے بارے میں صدارتی آرڈیننس کے قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا اور بعدازاں اس بل کو ترمیم کے بغیر منظور کر لیا گیا۔ کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ انسانی اعضاء کی رضا کارانہ پیوند کاری کی نگرانی کے لیے وفاقی سطح پر ایک اتھارٹی قائم کی جائے گی۔
کمیٹی کے چیئرمین نے اجلاس کو بتایا کہ انسانی اعضاء کی رضاکارانہ فراہمی کے بارے میں عوام میں آگہی مہم جلد شروع کی جائے گی۔
واضح رہے کہ انسانی اعضاء کے پیوند کاری کے صدارتی آرڈنینس میں غیر قانونی طور پر انسانی اعضاء کی پیوند کاری کرنے والے ڈاکٹروں کو دس سال قید کے علاوہ دس لاکھ روپے جُرمانے کی سزا بھی دی جاسکتی ہے۔
سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے دور میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو انسانی اعضاء کی خریدو فروخت کرنے والوں اور انسانی اعضاء کی غیر قانونی پیوند کاری کرنے والے ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کا اختیار دیا گیا تھا۔
اس کارروائی میں حصہ لینے والے ایف ائی اے کے اہلکار تبسم خان کا کہنا ہے کہ غیر قانونی پیوند کاری کرنے والے تیس سے زائد ڈاکٹروں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ان ڈاکٹروں پر الزام تھا کہ انہوں نے مریض کو بےہوش کرنے کے بعد مریض کی مرضی کے بغیر اُس کا گردہ نکال کر کسی اور مریض کو لگا دیا ہے۔
ایف آئی اے کے اہلکار کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ دو سو سے زائد اُن افراد کو بھی گرفتار کیا گیا جنہوں نے اس ضمن میں ڈاکٹروں کو مدد فراہم کی تھی۔
© MMIX