Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Tuesday, 10 november, 2009, 16:47 GMT 21:47 PST

’پولیس اپنی معلومات تو اپ ڈیٹ کر لے‘

پولیس

لاہور پولیس نے قحبہ خانوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے

لاہور پولیس نے قحبہ خانوں کو دہشت گردوں کی آماجگاہ قرار دیتے ہوئے ان قحبہ خانوں کی جو فہرست جاری کی ہے ان میں ایسے ہوٹل بھی شامل ہیں جن کو یا تو بند ہوئے عرصہ ہوگیا ہے یا ان کی انتظامیہ اور نام تبدیل ہو چکے ہیں۔

لاہور پولیس کی طرف سے جاری شدہ پریس ریلیز کے مطابق ایسے ہوٹلوں کی تعداد چار سو پینتالیس ہے جس میں ماڈل ٹاؤن کے علاقے میں ایک سو اٹھائیس، صدر کے علاقے میں چھیانوے، سٹی ڈویژن میں پچھہتر، اقبال ٹاؤں میں باون، سول لائنز ڈویژن میں باون اور کینٹ میں بیالس قحبہ خانے ہیں۔

ماڈل ٹاؤن کے علاقے میں جہاں پولیس کے مطابق سب سے زیادہ قحبہ خانے ہیں ایک ایسا ہوٹل یا گیسٹ ہاؤس بھی ہے جس کو بند ہوئے لگ بھگ چھ ماہ ہوچکے ہیں لیکن پولیس کی فہرست میں اس کا نام شامل ہے۔ اس ہوٹل کے مالک الیاس کے بھائی عدنان نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے بھائی چھ ماہ سے برطانیہ میں ہیں اور انہوں نے یہ گیسٹ ہاؤس بند کر دیا ہے۔

اس علاقے میں ایک ایسا گیسٹ ہاؤس بھی ہے جس کا پرانا نام ریڈ فورٹ تھا لیکن فروری سنہ دو ہزار سات سے اس کی نہ صرف انتظامیہ تبدیل ہوگئی بلکہ اس کا نام بھی بدل کرگرین فورٹ کر دیا گیا ہے۔ تاہم پولیس کی فہرست میں اب بھی گیسٹ ہاؤس کا پرانا نام درج ہے۔

اسی طرح دو دیگر گیسٹ ہاؤسز کے علی رضا اور عامر مغل نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ وہ تقریباً ایک سال قبل اپنا کاروبار بند کرچکے ہیں۔

گلبرگ کے علاقے میں ایک گیسٹ ہاؤس کے مینیجر شہریار (فرضی نام) نے بتایا کہ پولیس کی طرف سے جاری ہونے والی فہرست پہلی مرتبہ منظر عام پر نہیں آئی ہے بلکہ یہ فہرست کئی مرتبہ شائع ہوچکی ہے اور ہرمرتبہ فہرست میں ایک ہی نام شامل ہوتے ہیں۔

ہر ہوٹل کی طرف سے پولیس کوروزانہ ایک رپورٹ فراہم کی جاتی ہے جس میں ہوٹل میں رہنے والے تمام افراد کے بارے میں معلومات موجود ہوتی ہیں اور پولیس والوں سے اس بارے میں پوچھا جانا چاہیے کہ اگر ہوٹلوں میں غیر قانونی طور پر کوئی لوگ رہتے ہیں تو پولیس ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کرتی اور ہوٹلوں سے مہمانوں کے بارے میں جو روزانہ کی بنیاد پر معلومات حاصل کی جاتی ہیں ان کا کیا کیا جاتا ہے۔

ہوٹل مینیجر

انہوں نےیہ بھی بتایا کہ ہر ہوٹل کی طرف سے پولیس کوروزانہ ایک رپورٹ فراہم کی جاتی ہے جس میں ہوٹل میں رہنے والے تمام افراد کے بارے میں معلومات موجود ہوتی ہیں اور پولیس والوں سے اس بارے میں پوچھا جانا چاہیے کہ اگر ہوٹلوں میں غیر قانونی طور پر کوئی لوگ رہتے ہیں تو پولیس ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کرتی اور ہوٹلوں سےمہمانوں کے بارے میں جو روزانہ کی بنیاد پر معلومات حاصل کی جاتی ہیں ان کا کیا کیا جاتا ہے۔

شہریار کا کہنا ہے کہ ہوٹل میں آنے والے ہر شخص کا قومی شناختی کارڈ نمبر ، پتہ اور دیگر معلومات پولیس کو فراہم کردہ رپورٹ میں شامل ہوتی ہے جبکہ غیر ملکی فرد کا پاسپورٹ نمبر بھی اسی پولیس رپورٹ کا حصہ ہوتا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ کسی ایسے شخص کو ہوٹل میں کمرہ نہیں دیا جاتا جس کے پاس اس کا شاختی کارڈر نمبر موجود نہ ہو جبکہ غیر ملکی کے لیے اس کا پاسپورٹ لازمی ہے۔

شہریار کے مطابق اگر پولیس نے کارروائی کرنی ہے تو اس کے لیے کم ازکم اپنی معلومات کو تو اپ ڈیٹ کرلے تاکہ کارروائی کرتے وقت یہ معلوم ہو کہ کونسا ہوٹل یا گیسٹ کا وجود ابھی ہے اور کونسا بند ہوچکا ہے۔

ہوٹل مینیجر کہتے ہیں کہ پولیس کی طرف سے فہرست کے اجراء اور کارروائی سے کچھ حاصل نہیں ہوگا البتہ ان کا کاروبار بری طرح متاثر ہوگا جو ملک میں جاری دہشت گردی کی لہر کی وجہ سے پہلے ہی مندی کا شکار ہے۔

گلبرگ کے ایک دوسرے ہوٹل کے مینیجر کا کہنا ہے کہ ’ہوٹل ایک پبلک مقام ہے اور دہشت گرد کیوں ایسی جگہ پر رہائش رکھے گا جہاں وہ ہر وقت لوگوں کی نظر میں آئے‘۔ ان کے بقول ہوٹل کی انتظامیہ اپنے مہمانوں کے حوالے سے چوکنا رہتی ہے۔ان کے بقول ان کے ہوٹل میں زیادہ مختلف کمپنیوں کے ملازم قیام کرتےہیں لیکن کارروائی کی وجہ سے ان کے مہمانوں کو پریشانی ہوتی ہے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔