Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Tuesday, 10 november, 2009, 09:27 GMT 14:27 PST

سی این جی کی ہڑتال، عوام کو مشکلات

وفاقی کابینہ نے پندرہ نومبر سے پندرہ مارچ 2010 کے دوران سی این جی سٹیشنز اور صنعتی صارفین کو ہفتے میں دو دن گیس کی سپلائی معطل کرنے کا فیصلہ کیا تھا

حکومت کی جانب سے پندرہ نومبر سے سی این جی سٹیشنز ہفتے میں دو روز بند کرنے کے فیصلے کے خلاف سی این جی مالکان نے منگل کو چوبیس گھنٹے کی ہڑتال کی جس کی وجہ سے اٹک سے لے کر گجر خان تک کے علاقے میں واقع سی این جی سٹیشنز بند رہے۔

سی این جی سٹیشنز کی بندش کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اسلام آباد میں صرف ایک سرکاری سی این جی سٹیشن کُھلا تھا جہاں گیس کے حصول کے لیے گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی ہوئی تھیں۔

کلِک سی این جی سٹیشنز کی ہڑتال: تصویر

ان گاڑیوں میں ٹیکسی کے علاوہ سرکاری اور نجی گاڑیاں بھی شامل تھیں۔ اسی قطار میں کھڑے ایک ٹیکسی ڈرائیور امیر سلطان نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ کرائے پر ٹیکسی چلاتے ہیں اور روزانہ تین سو روپے گاڑی کے مالک کو دیتے ہیں۔ ’مجھے قطار میں کھڑے تین گھنٹوں سے زیادہ وقت ہوگیا ہے اور ابھی بھی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گیس کے حصول میں مزید دو گھنٹے لگیں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ آدھا دن تو گاڑی میں گیس ڈلوانے میں ضائع ہوگیا جبکہ اب گاڑی کے مالک کو تین سو روپے دینے کے علاوہ اہلخانہ کا پیٹ پالنے کے لیے سواری کا حصول مشکل ہوجائے گا۔

گیس کے حصول کے لیے قطار میں کھڑے ایک اور ٹیکسی ڈرائیور قمر زمان کا کہنا تھا کہ پہلے گرمیوں میں بجلی کا بحران اور اب سردیوں میں گیس کے بحران کا سامنا ہے۔ ’پہلے چینی اور آٹے کے حصول کے لیے گھنٹوں قطاروں میں کھڑے ہونا پڑتا تھا اور اب گیس کے لیے بھی لمبی قطاروں میں کھڑے ہونے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں۔‘

ایک نجی گاڑی کے مالک یاسر عباسی جو گیس کے حصول کے لیے قطار میں کھڑے تھے نے کہا کہ حکمران طبقہ عوام کو قربانیاں دینے کا مشورہ دیتے ہیں جبکہ خود اس پر عمل نہیں کرتے۔ ’اگر عوام کو آٹے، چینی اور گاڑیوں میں گیس کے حصول کے لیے لائنوں میں لگنا پڑتا ہے تو کم از کم حکمران طبقہ اپنے اخراجات میں کمی کرے تاکہ ملک میں موجود بحرانوں پر قابو پایا جاسکے۔‘

محمد راشد جو انکم ٹیکس آفس میں ملازم ہیں وہ بھی گاڑی میں گیس ڈلوانے کے لیے قطار میں کھڑے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے بچوں کو سکول چھوڑنے آئے تھے اور اُس کے بعد سے وہ قطار میں کھڑے ہیں۔ ’میں نے اپنے دفتر والوں کو مطلع کردیا ہے کہ میں آج دفتر نہیں آسکوں گا۔‘

واضح رہے کہ وفاقی کابینہ نے پندرہ نومبر سے پندرہ مارچ 2010 کے دوران لوڈ مینجنمٹ پالیسی کے تحت سی این جی سٹیشنز اور صنعتی صارفین کو ہفتے میں دو دن گیس کی سپلائی معطل کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اس فیصلے کو آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن نے مسترد کردیا ہے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔