Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Tuesday, 10 november, 2009, 15:00 GMT 20:00 PST

چارسدہ میں بم دھماکہ، اکیس ہلاک

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

پاکستان کے صوبہ سرحد کے شہر چارسدہ میں ایک کار بم دھماکے میں اکیس افراد ہلاک اور پچاس زخمی ہو گئے ہیں۔

مقامی حکام کے مطابق یہ دھماکہ منگل کی شام ساڑھے چار بجے چارسدہ بازار کے ایک مصروف علاقے فاروق اعظم چوک کے قریب اس وقت ہوا جب وہاں پر لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

کلِک چارسدہ میں دھماکے سے تباہی: تصاویر میں

چارسدہ کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کے ڈاکٹر نواز نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ دھماکے کے بعد ہسپتال میں اکیس لاشیں اور پچاس زخمی لائےگئے ہیں جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بیس سے زائد شدید زخمیوں کو پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

دھماکے کی اطلاع ملتے ہی مقامی ہسپتالوں میں ایمرجنسی بھی نافذ کر دی گئی

صوبہ سرحد کے وزیرِ اطلاعات میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ دھماکے میں تیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ تاہم اس تعداد کی تصدیق کے بارے میں سوال پر ان کا کہنا تھا کہ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اس دھماکے میں تیس افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ ہسپتال ذرائع سے اکیس افراد کی ہلاکت کا پتہ چلا ہے۔

چارسدہ پولیس کے ڈی ایس پی زین خان نے بتایا کہ دھماکہ خیز مواد بازار میں کھڑی ایک آلٹو کار میں نصب تھا جس کے پھٹنے سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ ان کے مطابق دھماکے سے اردگرد کی متعدد دکانوں کو شدید نقصان پہنچا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکے کے وقت سڑک پر لوگوں کا رش تھا۔

دھماکہ خیز مواد بازار میں کھڑی ایک آلٹو کار میں نصب تھا جس کے پھٹنے سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔

ڈی ایس پی زین خان

چارسدہ کے ایک مقامی صحافی اور واقعہ کے عینی شاہد سبز علی ترین نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکہ ایسے وقت پیش آیا جب دو تین منٹ پہلے وہاں سے ضلعی پولیس سربراہ ریاض خان کی گاڑی گزرہی تھی تاہم وہ اس حملے میں محفوظ رہے۔ ان کے مطابق بظاہر اس دھماکے کا ٹارگٹ ضلع پولیس سربراہ تھے۔ تاہم سرکاری طورپر اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ انہوں نے کہا کہ دھماکے میں زیادہ تر عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

ابھی تک کسی تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ خیال رہے کہ چارسدہ پشاور سے متصل واقع ایک ضلع ہے جس کی سرحدیں مہمند ایجنسی سے بھی ملتی ہیں۔ اس پہلے بھی یہاں پر پولیس اہلکاروں پر متعدد بار حملے ہوچکے ہیں تاہم بم دھماکے واقعہ کافی عرصہ کے بعد پیش آیا ہے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔