
احتجاج کا مقصد عالمی برادری کی توجہ بلوچستان کی سنگین صورتحال کی جانب مبذول کرانا ہے
بلوچستان نیشنل پارٹی کے کارکنوں نے اپنے لاپتہ ساتھیوں کی بازیابی کے لیے منگل کو کراچی پریس کلب کے باہر تین روزہ بھوک ہڑتال شروع کی ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اقوام متحدہ بلوچستان کی صورتحال کا نوٹس لے اور وہاں امن فوج بھیجے۔
بھوک ہڑتال میں شامل بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما جاوید بلوچ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی جماعت کے چھ کارکن لاپتہ ہیں جنہیں موجودہ حکومت نے حراست میں لے کر کسی نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔
’ستائیس مارچ 2009ء کو سیشن کورٹ خضدار کے گیٹ کے سامنے سے کبیر بلوچ، عطاءاللہ بلوچ اور ان کے ایک ساتھی مشتاق بلوچ کو خفیہ ادارے کے اہلکاروں نے اغواءکیا ۔ اسی طرح 25 اگست کو ہماری پارٹی کے سابق جنرل سیکریٹری سعداللہ بلوچ کو افطار سے پندرہ منٹ پہلےاغواء کیا گیا اور پچیس اکتوبر کو منگچر سے غلام مصطفی ساسولی کو بھی اٹھایا گیا جن کاتاحال کچھ پتہ نہیں چل سکا ہے۔‘
جاوید بلوچ نے بتایا کہ یکم اگست کو خود انہیں، کبیر بلوچ کے بھائی لطیف بلوچ اور ظفر بلوچ کو فرنٹیر کور کے اہلکاروں نے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا تھا۔
’ہمیں ایف سی کے اہلکاروں نے کافی اذیت دی اور کہا کہ جو تحریک آپ لوگ ں نے اپنے گمشدہ ساتھیوں کے لیے شروع کی ہے اس سے دستبردار ہوجاؤ لیکن بحیثیت ایک قوم ہم یہ سمجھتے ہیں کہ دستبرداری بزدلوں کا کام ہے۔ بلوچستان ہماری میراث ہے ہماری سرزمین ہے اور ہم آخری دم تک لڑیں گے۔‘
جاوید بلوچ نے کہا کہ ان کے ساتھیوں کو ہدف بناکر قتل کرنے کے واقعات بھی تسلسل سے ہورہے ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ بلوچ رہنماؤں اور کارکنوں کی گمشدگی اور قتل کے واقعات میں ریاستی ادارے ملوث ہیں جس کا مقصد بی این پی اور بلوچ قومی تحریک کو کمزور کرنا ہے۔
بھوک ہڑتالیوں کا کہنا تھا کہ ان کا پاکستانی حکومت، پارلیمنٹ، عدلیہ اور دوسرے اداروں پر اعتماد اٹھ چکا ہے اور ان کے احتجاج کا مقصد عالمی برادری کی توجہ بلوچستان کی سنگین صورتحال کی جانب مبذول کرانا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں حکومت کی تبدیلی کے بعد بلوچستان میں صورتحال بہتر ہونے کے بجائے بدتر ہوئی ہے اور اب بھی بڑی تعداد میں بلوچ افراد لاپتہ ہیں جن میں خواتین بھی شامل ہیں۔
جاوید بلوچ نے اقوام متحدہ سے اپیل کی کہ ’وہ بلوچستان میں امن فوج تعینات کرے تاکہ وہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند ہوں اور ہمارے جتنے بھی نوجوان ٹارچر سیلوں میں بند ہیں وہ آزاد ہوں‘۔
© MMIX