Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Tuesday, 10 november, 2009, 12:35 GMT 17:35 PST

بی این پی کے کارکنوں کی بھوک ہڑتال

احتجاج کا مقصد عالمی برادری کی توجہ بلوچستان کی سنگین صورتحال کی جانب مبذول کرانا ہے

بلوچستان نیشنل پارٹی کے کارکنوں نے اپنے لاپتہ ساتھیوں کی بازیابی کے لیے منگل کو کراچی پریس کلب کے باہر تین روزہ بھوک ہڑتال شروع کی ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اقوام متحدہ بلوچستان کی صورتحال کا نوٹس لے اور وہاں امن فوج بھیجے۔

بھوک ہڑتال میں شامل بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما جاوید بلوچ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی جماعت کے چھ کارکن لاپتہ ہیں جنہیں موجودہ حکومت نے حراست میں لے کر کسی نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔

’ستائیس مارچ 2009ء کو سیشن کورٹ خضدار کے گیٹ کے سامنے سے کبیر بلوچ، عطاءاللہ بلوچ اور ان کے ایک ساتھی مشتاق بلوچ کو خفیہ ادارے کے اہلکاروں نے اغواءکیا ۔ اسی طرح 25 اگست کو ہماری پارٹی کے سابق جنرل سیکریٹری سعداللہ بلوچ کو افطار سے پندرہ منٹ پہلےاغواء کیا گیا اور پچیس اکتوبر کو منگچر سے غلام مصطفی ساسولی کو بھی اٹھایا گیا جن کاتاحال کچھ پتہ نہیں چل سکا ہے۔‘

جاوید بلوچ نے بتایا کہ یکم اگست کو خود انہیں، کبیر بلوچ کے بھائی لطیف بلوچ اور ظفر بلوچ کو فرنٹیر کور کے اہلکاروں نے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا تھا۔

’ہمیں ایف سی کے اہلکاروں نے کافی اذیت دی اور کہا کہ جو تحریک آپ لوگ ں نے اپنے گمشدہ ساتھیوں کے لیے شروع کی ہے اس سے دستبردار ہوجاؤ لیکن بحیثیت ایک قوم ہم یہ سمجھتے ہیں کہ دستبرداری بزدلوں کا کام ہے۔ بلوچستان ہماری میراث ہے ہماری سرزمین ہے اور ہم آخری دم تک لڑیں گے۔‘

جاوید بلوچ نے کہا کہ ان کے ساتھیوں کو ہدف بناکر قتل کرنے کے واقعات بھی تسلسل سے ہورہے ہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ بلوچ رہنماؤں اور کارکنوں کی گمشدگی اور قتل کے واقعات میں ریاستی ادارے ملوث ہیں جس کا مقصد بی این پی اور بلوچ قومی تحریک کو کمزور کرنا ہے۔

بھوک ہڑتالیوں کا کہنا تھا کہ ان کا پاکستانی حکومت، پارلیمنٹ، عدلیہ اور دوسرے اداروں پر اعتماد اٹھ چکا ہے اور ان کے احتجاج کا مقصد عالمی برادری کی توجہ بلوچستان کی سنگین صورتحال کی جانب مبذول کرانا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں حکومت کی تبدیلی کے بعد بلوچستان میں صورتحال بہتر ہونے کے بجائے بدتر ہوئی ہے اور اب بھی بڑی تعداد میں بلوچ افراد لاپتہ ہیں جن میں خواتین بھی شامل ہیں۔

جاوید بلوچ نے اقوام متحدہ سے اپیل کی کہ ’وہ بلوچستان میں امن فوج تعینات کرے تاکہ وہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند ہوں اور ہمارے جتنے بھی نوجوان ٹارچر سیلوں میں بند ہیں وہ آزاد ہوں‘۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔