
فوج نے تقریباً تین ہفتے قبل جنوبی وزیرستان میں محسود قبائل کے علاقے میں کارروائی کا آغاز کیا تھا
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن راہ نجات میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ہونے والے جھڑپوں میں آٹھ شدت پسند اور چار سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے پیر کو جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے جنڈولہ اور سراروغہ کے محور میں اپنی پوزیشنیں مزید مستحکم کر لی ہیں۔
سکیورٹی فورسز نے بنگل خیل، توتی لنگر خیل اور کنی گورم کے علاقوں میں سرچ آپریشن کیا ہے اور اس دوران شدت پسند کمانڈر ممتاز برکی کے پناہ گاہ کو مسمار کردیا گیا ہے۔
بیان کے مطابق فوج نے تودھ چینہ خولہ کے علاقے کو کلیئر کردیا ہے جب کہ شدت پسندوں کے ایک بڑے مرکز مکین کے قریب ایک سکیورٹی چیک پوسٹ بھی قائم کردی گئی ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق شدت پسندوں نے مکین سکیورٹی چیک پوسٹ پر راکٹ حملے کیے ہیں جس میں چار سکیورٹی اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوا جب کہ جوابی کارروائی میں آٹھ عسکریت پسند مارے گئے۔
اُدھر صوبہ سرحد کے جنگ سے متاثرہ علاقوں سوات اور مالاکنڈ میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے جاری آپریشن راہ راست میں دو شدت پسندوں کو گرفتار کرلیا گیا جب کہ چار باغ میں ایک دہشت گرد نےرضاکارانہ طورپر ہتھیار ڈال کر خود کو حکام کے حوالے کردیا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ آپریشن کی وجہ سے وزیرستان سے بے گھر ہونے والے نو ہزار سے زائد افراد کو کیش کارڈ جاری کردیے گئے ہیں جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان میں فوج کے فیلڈ ہسپتال میں چار ہزار سے زائدمریضوں کا علاج کرایا گیا ہے۔
خیال رہے کہ فوج نے تقریباً تین ہفتے قبل جنوبی وزیرستان میں محسود قبائل کے علاقے میں بیت اللہ گروپ کے طالبان کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا تھا۔
اس آپریشن کی وجہ سے وزیرستان کے قریب واقع بندوبستی علاقوں ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں موبائل ٹیلی فون سروس معطل کر دی گئی جب کہ بعض علاقوں میں وائرلیس موبائل فون بھی بند کردیے گئے ہیں جس کی وجہ سے آزاد ذرائع سے اطلاعات ملنے میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ شدت پسند علاقہ چھوڑ کر دوسرے قبائلی علاقوں کی جانب منتقل ہو رہے ہیں۔
© MMIX