
’خود کش حملہ آور‘ سر پر گولی لگنے سے ہلاک ہوا
اتوار کے روز اسلام آباد میں ہلاک ہونے والے مبینہ خودکش حملہ آور کے ڈی این اے شناخت کے لیے لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں۔
ایس پی صدر سرکل حاکم خان نے بی بی سی کو بتایا کہ خودکش حملہ اور کی تلاشی کے دوران پولیس کو ایسی کوئی چیز نہیں ملی جس سے اُس کی شناخت میں مدد مل سکے۔ تاہم اُن کا کہنا تھا کہ حُلیے سے خودکش حملہ آور وزیر ستان کے علاقے کا رہائشی معلوم ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس مبینہ خودکش حملہ آور کے دیگر دو ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں تاہم ابھی اس میں کامیابی نہیں ملی۔
پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے۔
وزیر داخلہ رحمان ملک نے اس خودکش حملے کو ناکام بنانے والے پولیس اہلکاروں کو ایک درجہ ترقی دینے کا اعلان کیا ہے۔
واضح رہے کہ اتوار کی شام اسلام آباد میں پولیس نے پولیس چوکی پر حملے کے ارادے سے آنے والے ایک ’خودکش حملہ آور‘ کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔
اسلام آباد میں ڈی آئی جی آپریشنز بنیامین نے بی بی سی کو بتایا کہ ای الیون کے علاقے میں رات دس بجے کے قریب صدام چوک کے قریب کالے شیشوں والی ایک پک اپ گاڑی کو جس میں تین لوگ سوار تھے شک پڑنے پر رکنے کا اشارہ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ گاڑی میں سے ایک شخص اترا اور قریب ہی واقع پولیس چوکی کی طرف دوڑنے لگا، پولیس نے اسے گولی مار دی۔ انہوں نے کہا کہ اس شخص کے پاس دستی بم بھی تھے اور اس نے بارود سے بھری جیکٹ بھی پہن رکھی تھی۔ پولیس کی گولی کا نشانہ بننے والے اس شخص کی عمر بیس سے پچیس برس کے درمیان بتائی گئی ہے۔
© MMIX