
خودکش حملہ آور ایک رکشے میں آیا اور پولیس ناکے کے قریب اس نے دھماکہ کر دیا: پولیس
صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور اور پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں شدت پسندی کے دو واقعات میں پانچ افراد ہلاک اور چھ افراد زخمی ہوئے ہیں۔
ہمارے نامہ نگار دلاور خان وزیر نے بتایا کہ پشاور میں ایک پولیس چوکی کے قریب ایک خودکش بم دھماکے میں تین افراد ہلاک جبکہ پانچ زخمی ہوگئے ہیں۔ دوسرا واقعہ باجوڑ ایجنسی میں ہوا جہاں حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی ایک گاڑی پر ہونے والے ریموٹ کنٹرول بم حملے میں دو اہلکار ہلاک جبکہ ایک زخمی ہوگئے ہیں۔
کلِک
پشاور میں خود کش حملہ، تصاویر
پشاور میں پولیس کا کہنا ہے کہ پیر کی صبح دس بجے کے قریب رنگ روڑ کے پتنگ چوک میں پولیس چوکی کے پاس ایک خود کش حملہ آور نے اس وقت دھماکہ کیا جب وہ چوکی کے قریب پہنچنے کی کوشش کر رہا تھا۔ پولیس کے مطابق خودکش دھماکے میں ایک پولیس اہلکار سمیت تین افراد ہلاک جبکہ پانچ زخمی ہو گئے ہیں۔
پولیس اہلکار ہارون نے بی بی سی کو بتایا کہ خودکش حملہ آور ایک رکشے میں آیا اور پولیس ناکے کے قریب اس نے دھماکہ کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ دھماکے سے رکشہ مکمل طور پر تباہ جب کہ ناکے کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔
اس دھماکے کی ذمہ داری ابھی تک کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔ البتہ پشاور میں ہی گزشتہ روز ایک ناظم پر ہونے والے خودکش دھماکے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی تھی۔ اس خودکش دھماکے میں ناظم عبدالمالک سمیت تیرہ افراد ہوگئے تھے۔
ہمارے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی نے بتایا کہ باجوڑ ایجنسی کے ایک اعلیٰ سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ پیر کی صبح تحصیل سالارزئی کے علاقے ملا سید میں سڑک کے کنارے اس وقت پیش آیا جب سکیورٹی فورسز کی ایک گاڑی کو ریموٹ کنٹرول بم حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دھماکے میں دو اہلکار ہلاک جبکہ ایک زخمی ہوگئے ہیں۔ ان کے مطابق دھماکے میں گاڑی تباہ ہوگئی ہے۔ ابھی تک کسی تنظیم نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
پیر کی صبح تحصیل سالارزئی کے علاقے ملا سید میں سکیورٹی فورسز کی گاڑی کو کو ریموٹ کنٹرول بم حملے کا نشانہ بنایا گیا
حکام
خیال رہے کہ تقریباً ایک ماہ قبل باجوڑ ایجنسی میں سکیورٹی فورسز نے طالبان کے خلاف دوبارہ کارروائیوں کا آغاز کیا تھا۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ حالیہ کارروائیوں کے نتیجے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شدت پسندوں کے زیر قبضہ علاقوں پر کنٹرول حاصل کرکے وہاں سے انھیں نکال دیا ہے۔
حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ آپریشن کی وجہ سے تحصیل سالارزئی سے بھی عسکریت پسندوں کو نکال دیا گیا ہے اور وہاں سکیورٹی فورسز کو تعینات کرکے حکومت کی عمل داری بحال کردی گئی ہے۔
ادھر اتوار کو باجوڑ ایجنسی سے متصل قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان ہونے والی ایک جھڑپ میں چھ عسکریت پسند اور دو سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔
© MMIX