
اعتزاز کو صدر زرداری کی طرف سے عہدے کی پیشکش ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب صدر خود ایک سیاسی بحران کا شکار ہیں
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر بیرسٹر اعتزاز احسن نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ صدر اور وزیراعظم سے ملاقات کے دوران عہدہ لینے کے معاملے پر تبادلہ خیال ہوا تھا۔
اعتزاز احسن نے یہ بات سوموار کو لاہور میں شاعر مشرقی علامہ اقبال کی برسی کے سلسلہ میں ہونے والی تقریب کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتائی۔ اعتزاز احسن کا یہ موقف اس وقت سامنے آیا ہے جب وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ ملاقات میں اعتزاز احسن کو عہدے دینے کے موضوع پر کوئی بات نہیں ہوئی۔
اعتزاز احسن نے پانچ نومبر کو اسلام آباد میں صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم سے الگ الگ ملاقاتیں کیں جس کے بعد اخباری اطلاعات کے مطابق اعتزاز احسن کو اٹارنی جنرل پاکستان یا گورنر پنجاب کے عہدے کی پیشکش کی گئی ہے۔
معزول ججوں کی بحالی کے بعد اعتزاز احسن کی صدر آصف علی زرداری سے یہ دوسری ملاقات ہے۔ اس سے پہلے صدر زرداری اور اعتزاز احسن کی اس سال مئی میں ایوان صدر میں ملاقات ہوئی تھی۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے اعتزاز احسن نے کہا کہ پیپلز پارٹی اُن کی اپنی جماعت ہے وہ پیپلز پارٹی کی حکومت میں کوئی عہدہ لینے کو معیوب نہیں سمجھتے تاہم وہ ان معاملات کے بارے میں ابھی سوچ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ملاقات کی تفضیلات نہیں بتاتے سکتے کیونکہ بقول ان کے وہ اس ملاقات میں ہونے والی گفتگو کے ’امین‘ ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ بار بار عہدوں کے بارے میں پوچھ کر کچھ لوگوں کی نیندیں خراب نہ کریں۔
ادھر پیپلز پارٹی کے رہنما اسلام الدین شیخ نے نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملاقات میں اعتزاز احسن کو اٹارنی جنرل پاکستان کے عہدے کی پیشکش کی گئی ہے ۔ ان کے بقول عہدے دینے سے پہلے اعتزاز احسن کی مجلس عاملہ کی رکنیت کو بحال کیا جائے گا۔
بیرسٹر اعتزاز احسن کا پیپلز پارٹی کے سینئر رہنماؤں میں شمار ہوتا ہے لیکن وکلاء تحریک کی وجہ سے انہوں نے سنہ دو ہزار آٹھ میں ہونے والے عام انتخابات میں حصہ نہیں لیا اور وکلاء تنظیموں کے فیصلے کی روشنی میں اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے لیے تھے۔
وکلاء تحریک میں معزول ججوں کی بحالی کے معاملے پر اعتزاز کی اپنی جماعت پیپلز پارٹی کی قیادت سے شدید اختلافات پیدا ہوگئے تھے اور اسی سال فروری میں پارٹی قیادت نے ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میں اعتزاز احسن کی مجلس عامہ کی رکنیت کو معطل کردیا گیا جو بقول اعتزاز احسن ابھی تک بحال نہیں ہوئی ۔
اعتزاز احسن جو وکلاء تحریک کے نمایاں رہنما رہ چکے ہیں اور پیپلز پارٹی سے تعلق ہونے کی وجہ سے انہیں وکلاء کی طرف سے نکتہ چینی کا سامنا بھی رہا تاہم اس تنقید میں جواب میں اعتزاز کا یہ موقف رہا کہ نہ تو وہ پیپلز پارٹی چھوڑیں گے اور نہ ہی اس سے الگ ہونگے۔
خیال رہے کہ اعتزاز احسن صوبائی وزیر اطلاعات کے علاوہ وزیر قانون اور داخلہ بھی رہ چکے ہیں جبکہ انیس سو ترانوے میں رکن اسمبلی منتخب نہ ہونے کی وجہ سے سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو نے انہیں سینیٹر منتخب کرایا تھا۔ اعتزاز احسن بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات کی پیروی کرتے رہے ہیں۔
© MMIX