Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Sunday, 8 november, 2009, 12:23 GMT 17:23 PST

’20 جنگجو ہلاک، اسلحہ برآمد‘

فائل فوٹو، پاکستانی فوج

سکیورٹی فورسز نے تقریباً تین ہفتے قبل جنوبی وزیرستان کے محسود علاقے میں آپریشن کا آغاز کیا تھا

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف فوج کی کارروائی کے دوران گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں مزید بیس شدت پسند ہلاک اور ایک افسر سمیت آٹھ سکیورٹی اہلکار زخمی ہو گئے ہیں۔

اتوار کو بری فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق جنڈولہ سراروغہ کے علاقے میں فوج نے پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے کارروائی کی جس کے دوران تین شدت پسندوں ہلاک ہوگئے جبکہ مختلف مقامات سے اسلحے اور گولہ بارود کے بڑے ذخائر برآمد ہوئے ہیں۔

اس کے علاوہ فوج نے شکئی اور کنی گورم کے درمیانی علاقے پر بھی مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے بعد مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن کیا جن میں توتائے، لنگر خیل، ٹپر گھئی اور کنڈ میلہ کے مقامات شامل ہیں۔ تلاشی کی اس کارروائی کے دوران بھی بڑی مقدار میں اسلحہ برآمد کیا گیا جس میں خودکش جیکٹس، مشین گنز، دستی بم اور راکٹس وغیرہ شامل ہیں۔

فوج نے اسی علاقے سے برقی آلات بنانے والی ایک فیکٹری پر بھی قبضہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے جہاں سے ریموٹ کنٹرول بم کی تیاری میں استعمال ہونے والے سرکٹس اور ریمورٹ کنٹرول برآمد ہوئے ہیں۔

فوجی ترجمان کے مطابق رزمک اور مکین میں بھی مختلف علاقوں کی تلاشی لی گئی جن میں بہادر خیل، منزہ کئی اور وچوبا شامل ہیں۔

دوسری جانب صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں فوجی آپریشن راہ راست کے دوران شاہ ڈھیرئی میں ایک سرنگ سے بڑی تعداد میں اسلحہ برآمد کر کے اٹھارہ مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران قبائلی علاقے وزیرستان سے بے گھر ہونے والے ساڑھے آٹھ ہزار خاندانوں میں کیش کارڈز بھی تقسیم کیے گئے ہیں۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔