
پاکستان کے صوبہ سندھ کے دور افتادہ اور مسائل میں گھرے ضلع تھر پارکر میں گزشتہ سات ماہ کے دوران دوسری تھر ’ڈیسرٹ کار ریلی‘ اتوار کے روز ہوئی۔
ریلی میں ملک مختلف حصوں سے آئی ہوئی اٹھاون گاڑیاں شریک ہوئیں۔ اکثر گاڑیوں کو مختلف متمول اورامیر گھرانوں سے وابستہ افراد چلا رہے تھے۔ ان لوگوں میں سندھ کے صوبائی وزراء میر نادر خان مگسی، مکیش چاوئلہ، نادر کے ایک بھائی رکن قومی اسمبلی عامر مگسی، دوسرے بھائی ظفر مگسی اور اسد کھوڑو شامل تھے۔ میر نادر مگسی کے ایک اور بھائی میر ذوالفقار مگسی بلوچستان کے گورنر ہیں ۔
اٹھاون گاڑیوں میں تھر سے ریس میں صرف ایک گاڑی شامل ہوسکی۔
دو مرحلوں کی اس دوڑ میں دونوں صوبائی وزراء کے علاوہ رونیو پٹیل، عامر مگسی، ظفر مگسی اور میاں رفیق شامل ہیں۔
کامیاب ہونے والوں کو چوبیس لاکھ روپے بھی انعام میں پیش کئے گئے۔
سندھ کے وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ نے بھی شام کو اپنی تھرپارکر آمد پر اس مقام کا دورہ کیا جہاں سے دوڑ کا آغاز ہو رہا تھا۔ رات کو وقت وزیر اعلیٰ نے ہی انعامات تقسیم کئے۔

تھر کے لوگ کار ریلی پر تنقید کر رہے تھے
دن کے وقت سندھ اسمبلی کے سپیکر نثار کھوڑو نے بھی ریس میں شامل ہونے والی گاڑیوں کو دیکھا۔
انہوں نے تھر پارکر کے عام لوگوں کی اس ریس کے حوالے سے نکتہ چینی پر کہا کہ کار ریس کا انعقاد بھی ایک طرح سے تھر پارکر کے لئے ہی سرمایہ کاری ہے۔ ملک اور بیرون ملک لوگوں کو بتانا مقصود ہے کہ تھرپارکر کیا علاقہ ہے جہاں کوئلے کے بڑے ذخائر موجود ہیں۔
تھر سے تعلق رکھنے والے اکثر لوگ کار ریلی کے مخالف نظر آئے اور ان کا اصرار تھا کہ حکومت کو اونٹ اور گھوڑوں کی دوڑ کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے تا کہ تھرپارکر کے لوگوں میں مویشی بافی کے شوق میں اضافہ ہو سکے ۔
گزشتہ کار ریلی کے موقع پر کی جانے والی نکتہ چینی کے پیش نظر ضلع حکومت نے ایک ثقافتی شو کرایا تھا جو ثقافتی شو تھا نہ ہی مکمل میلہ مویشیاں ۔ لوگوں نے اس پر عدم اطمنان کا کھلے بندوں اظہار کیا۔ عام لوگوں کی کار ریس کو دیکھنے اور میلہ مویشاں میں شرکت بھی قابل ذکر نہیں تھی۔
بعض لوگ یہ تبصرہ کرتے ہوئے سنے گئے کہ صوبائی اور ضلع حکومتوں نے امیر لوگوں کے شوق کی خاطر کار ریلی کا اہتمام کیا ہے جس سے انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
تھرپارکر سے محفوظ نشست پر منتخب ہونے والے ق لیگ کے سندھ اسمبلی کے رکن رام سنگھ سوڈہو نے کہا کہ حکومت کو کار ریلی کو ساتھ ساتھ بھرپور طریقہ سے اونٹ اور گھوڑوں کی دوڑ کا بھی اہتمام کرنا چاہئے تھا کیوں کہ اس سے عام لوگوں کی حوصلہ افزائی کا امکان تھا۔
© MMIX