
’خود کش حملہ آور‘ سر پر گولی لگنے سے ہلاک ہوا
اسلام آباد میں پولیس نے کہا ہے کہ انہوں نے اتوار کی رات کو پولیس چوکی پر حملے کے ارادے سے آنے والے ایک ’خودکش حملہ آور‘ کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔
اسلام آباد میں ڈی آئی جی آپریشنز بنیامین نے بی بی سی کو بتایا کہ ای الیون کے علاقے میں رات دس بجے کے قریب صدام چوک کے قریب کالے شیشوں والی ایک پک اپ گاڑی کو جس میں تین لوگ سوار تھے شک پڑنے پر رکنے کا اشارہ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ گاڑی میں سے ایک شخص اترا اور قریب ہی واقع پولیس چوکی کی طرف دوڑنے لگا، پولیس نے اسے گولی مار دی۔ انہوں نے کہا کہ اس شخص کے پاس دستی بم بھی تھے اور اس نے بارود سے بھری جیکٹ بھی پہن رکھی تھی۔ پولیس کی گولی کا نشانہ بننے والے اس شخص کی عمر بیس سے پچیس برس کے درمیان بتائی گئی ہے۔
ای الیون میں جہاں یہ واقعہ پیش آیا اس کے قریب ہی فضائیہ اور بحریہ کے صدر دفاتر بھی موجود ہیں۔
اس واقعے کے فوراً بعد شہر کی تقریباً ناکہ بندی کر کے مشکوک گاڑی میں سوار باقی دو افراد کی تلاش شروع کر دی گئی۔ اس دوران سڑکوں پر موجود ٹریفک بھی رک گئی۔
پولیس کے مطابق مبینہ خودکش حملہ آور کا اصل نشانہ ایف الیون میں ایک پولیس چوکی تھی۔ اس سے پہلے بھی ایف الیون سے تین لوگوں کو دہشت ہونے کے شبہے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان میں سے دو کا تعلق گجر خان سے اور ایک کا راولپنڈی سے تھا۔
آئی جی پولیس سید کلیم امام نے بتایا کہ اسلام آباد میں داخلے کے ایک سو پینسٹھ راستے ہیں اور تمام کی مکمل ناکہ بندی ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا مذکورہ ’خود کش‘ حملہ آور کو انٹیلیجنس کی بنیاد پر روکا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بہتر مبینہ دہشت گرد پکڑے جا چکے جن میں خودکش حملہ آور بھی شامل ہیں۔
© MMIX