وہ انسانی حقوق کے کمیشن،عورت فاؤنڈیشن اور دیگر ایسی پاکستانی غیرسرکاری تنظیموں سے وابستہ رہے جو پاکستان میں انسانی حقوق کی پاسداری کے لیے کام کر رہی ہیں۔

ایم بی نقوی نے اپنی زندگی میں ہمیشہ لکھنے کے کام کو ترجیح دی
پاکستان کے معروف صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن محمد باقر نقوی عرف ایم بی نقوی حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے اکیاسی برس کی عمر میں انتقال کرگئے ہیں۔ان کی نماز جنازہ پیر کو کراچی کے علاقے ناظم آباد کی امام بار گاہ باب العلم میں ہوگی۔
ایم بی نقوی کو عارضہ قلب کی وجہ سے ان کی بیگم نے امراض قلب کے قومی ہسپتال میں داخل کروایا تھا جہاں وہ دو دن ڈاکٹروں کے زیرعلاج رہے اور سنیچر کی شام انتقال کرگئے۔
ایم بی نقوی انیس سو اٹھائیس میں ہندستان کے شہر امروہ میں پیدا ہوئے۔انہوں نے ابتدائی تعلیم امروہ میں ہی حاصل کی اور تقسیم ہند کے بعد ہجرت کر کے پاکستان آ گئے۔ انہوں نے انگریزی روزنامہ انڈس ٹائم حیدرآباد کے بعد انگریزی اخبار ڈان میں کام کیا۔ بعد میں وہ راولپنڈی منقتل ہو گئے جہاں انھوں نے ریڈیو پاکستان کے ساتھ کام کیا۔
راولپنڈی میں کچھ برس نوکری کرنے کے بعد ایم بی نقوی واپس کراچی پہنچے اور اپنے پرانے شوق اور پیشےکی طرف لوٹ آئے۔انہوں نے انگریزی اخبار ڈان میں لکھنا شروع کیا۔بعد میں انہوں نے دوسرے پاکستانی انگریزی اخبار دی نیوز میں بھی لکھا۔ایم بی نقوی نے پاکستانی انگریزی اخبارات کے ساتھ ساتھ بنگلہ دیش کے ڈیلی سٹار،انڈیا کے دکن ہیرالڈ اور متحدہ عرب امارت کے اخبار گلف نیوز میں بھی کالم لکھے ہیں۔
وہ انسانی حقوق کے کمیشن،عورت فاؤنڈیشن اور دیگر ایسی پاکستانی غیرسرکاری تنظیموں سے وابستہ رہے جو پاکستان میں انسانی حقوق کی پاسداری کے لیے کام کر رہی ہیں۔
وہ انسانی حقوق کے کمیشن،عورت فاؤنڈیشن اور دیگر ایسی پاکستانی غیرسرکاری تنظیموں سے وابستہ رہے جو پاکستان میں انسانی حقوق کی پاسداری کے لیے کام کر رہی ہیں۔
ایم بی نقوی کے پرانے دوست بی ایم کٹی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان کی امریکا میں رہائش پذیر بیٹی عالیہ نزہت کی آمد کے انتظار میں میت رکھی گئی ہے اور پیر کو ان کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی۔ایم بی نقوی کے سوگواروں میں ایک بیٹی عالیہ، ایک بیوہ اور دو بیٹے فہیم بصر نقوی اور سلیم احسن نقوی شامل ہیں۔
بی ایم کٹی کے مطابق ایم بی نقوی نے اپنی زندگی میں ترجیح ہمیشہ لکھنے کے کام کو دی اور کبھی کبھار اگر انہیں سول سوسائٹی کے اجلاسوں میں شرکت کرنا پڑی تو وہ وہاں سے جلدی واپس جا کر اپنی تحریریں مکمل کرنے کے لیے فکرمند رہتے تھے۔
© MMIX