
سکیورٹی فورسز کنٹرول شدہ علاقے میں پوزیشنیں مضبوط کر رہی ہیں
جنوبی وزیرستان میں فوجی حکام کے مطابق آپریشن راہ نجات کے دوران مزید بارہ شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے جبکہ اس کارروائی میں سات سکیورٹی اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔
پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان سراروغہ اور مکین کے علاقوں میں جھڑپیں ہوئی ہیں جن میں بارہ شدت پسند مارے گئے ہیں۔
فوجی حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے شدت پسندوں میں سے آٹھ سراروغہ اور چار مکین کے علاقے میں مارے گئے۔ حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کارروائی میں دو افسران سمیت سات سکیورٹی اہلکار زخمی بھی ہوئے۔
ادھر ایک اعلیٰ سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ آپریشن میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شدت پسندوں کی جانب سے ہونے والی مزاحمت میں کمی آ رہی ہے اور سکیورٹی فورسز نے تین ہفتوں کے اندر طالبان کے گڑھ سمجھے جانے والے کئی اہم علاقوں پر کنٹرول حاصل کیا ہے۔
مقامی شدت پسند فوجی کارروائی سے خوف زدہ ہوکر شمالی وزیرستان، کُرم ایجنسی اور اورکزئی ایجنسی کی طرف فرار ہو رہے ہیں۔
پاکستانی حکام
اہلکار کے مطابق جن علاقوں کو سکیورٹی فورسز نے مکمل طور پر محفوظ کر لیا ہے ان میں لدھا، کنی گُرم، مکین، تیارزہ سام، کوٹکئی، سپنکئی راغزئی اور سراروغہ کے علاقے شامل ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت شمال کی جانب تھوڑا ہی ایسا علاقہ بچا ہے جہاں سکیورٹی فورسز کے اہلکار ابھی نہیں پہنچے ہیں۔ ان کے مطابق ان علاقوں میں شک توئی، شین سترگے، کیکڑئی، بروند اور جنتہ کے علاقے شامل ہیں۔
حکام کے مطابق جن علاقوں میں شدت پسند موجود ہیں انہیں جیٹ طیاروں، گن شپ ہیلی کاپٹروں اور بھاری توپ خانے سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ تاہم ان علاقوں کے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پورے محسود قبائل کے علاقے میں اس وقت کوئی بھی عسکریت پسند موجود نہیں ہے اور عسکریت پسند سکیورٹی فورسز کی جانب سے کارروائی شروع ہونے سے پہلے ہی نکل گئے تھے۔
واضح رہے کہ جنوبی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز نے تین ہفتے قبل شدت پسندوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کی ہے جس میں اب تک حکام کے مطابق بیت اللہ گروپ کے مقامی طالبان سے اہم علاقوں کو خالی کروا لیا گیا ہے۔حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ مقامی شدت پسند فوجی کارروائی سے خوف زدہ ہوکر شمالی وزیرستان، کُرم ایجنسی اور اورکزئی ایجنسی کی طرف فرار ہو رہے ہیں۔
© MMIX