Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Sunday, 8 november, 2009, 01:58 GMT 06:58 PST

کراچی میں جئے سندھ کا آزادی مارچ

سندھ کے بعد یہ ریلی کراچی میں کی گئی

سندھی قوم پرست جماعت جئے سندھ قومی محاذ یعنی ’جسقم‘ کی اپیل پرسنیچر کی شام کراچی میں آزادی مارچ کیا گیا ہے۔ اس مارچ میں سندھ بھر سے آئے ہوئے جسقم اور دیگر سندھی قومپرست جماعتوں کے کارکنان نے شرکت کی ہے۔

جسقم کا آزادی مارچ گلشن جدید ملیر سے شروع ہوکر مزار قائد کے قریب تبت سینٹر پر اختتام پذیر ہوا۔ جیئے سندھ قومی محاذ کے چیئرمین بشیر قریشی نے اپنے ہزاروں کارکنان کی موجودگی میں اقوام متحدہ سے اپیل کی ہے کہ وہ سندھ کے حقوق کے حصول میں ان کی مدد کرے۔

بشیر قریشی کا کہنا تھا کہ ماضی میں سندھ ایک جداگانہ اور آزاد حیثیت کا حامل ملک رہا ہے۔اس لیے وہ اقوام متحدہ سے اپیل کریں گے کہ عالمی برادری سندھ کی سابقہ آزاد حیثیت بحال کرنے میں ان کی مدد کرے۔

جسقم آزادی مارچ کی تقریب سے بشیر قریشی، آصف بالادی، ڈاکٹر صفدر سرکی اور دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا ہے۔

بشیر قریشی نے اپنی لکھی ہوئی تقریر میں عالمی برادری کو یقین دلوایا ہے کہ سندھی قومپرست ملک میں جاری انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے اپنا سیکیولر کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

جسقم کے رہنماؤں نے اپنی تقاریر میں کہا ہے کہ سندھ کے معدنی وسائل سے قبضہ ختم کرکے مقامی لوگوں کو ملازمتیں دی جائیں۔ جبکہ انیس سو چون کے بعد سندھ آنے والے تمام غیرملکیوں کو ملک بدر کیا جائے۔ قومپرست رہنماؤں نے متنازعہ کالاباع ڈیم اور تھل کنال کے منصوبے ہمیشہ کے لیےختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

جسقم کے آزادی مارچ کو پاکستان کے ذرائع ابلاغ میں بہت کم کوریج دی گئی ہے۔ جس کا گلا ان کےچیئرمین بشیر قریشی نے بھی کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ آزادی مارچ کی کوریج میں پاکستانی میڈیا نے تعصب سے کام لیا ہے۔

جسقم کی اپیل پر گزشتہ دو ماہ سے سندھ کے مختلف شہروں میں آزادی مارچ کیے جا رہے تھے اور یہ اس تسلسل کا سب سے بڑا مارچ تھا۔ جئے سندھ کے کارکنان نے ،نہ کھپے نہ کھپے پاکستان نہ کھپے، کے زوردار نعرے لگائے اور سندھ کی آزادی کا مطالبہ کیا ہے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔