Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Saturday, 7 november, 2009, 11:12 GMT 16:12 PST

کوئٹہ میں بھی گرلز سکول پرحملہ

گرلز سکول کا گیٹ

کوئٹہ میں کچھ عرصے سے تعلیم سے وابستہ لوگ زیادہ نشانہ بن رہے ہیں

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں نامعلوم افراد کی جانب سے ایک گرلز ہائی سکول کی عمارت پر دستی بم کے حملے میں دو خواتین اساتذہ زخمی ہو گئی ہیں۔ تاہم کسی نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ کوئٹہ میں پہلی بار گرلز سکول کو تخریب کاری کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

مذکورہ سکول کوئٹہ شہر کے وسط میں منوجان روڈ پر واقع ہے۔ زخمیوں کو سول ہسپتال متقل کردیا گیا ہےجہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی گئی ہے۔

سکول کی پرنسپل مسز شہزاد وقار نے بتایا کہ دھماکہ اس وقت ہوا جب سٹاف روم میں اساتذہ کی میٹنگ ہورہی تھی۔ پرنسپل نے بتایا کہ دھماکے سے عمارت کو نقصان پہنچاہے مگر تمام طالبات محفوظ رہی ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں مسز شہزاد کا کہنا تھا کہ انہیں اس قبل کوئی دھمکی نہیں ملی تھی۔ سکول میں صبح اور شام کی کلاسوں میں ایک ہزار سے زیادہ طالبات زیر تعلیم ہیں۔

دھماکے کے بعد سکو ل کو بند کردیا گیا۔ پولیس اور فرنٹیئرکور کی نفری نے مو قع پر پہنچ کر تحقیقات شروع کردی ہیں۔ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں یہ پہلی بار ہواہے کہ کسی نے گرلزسکول کو تخریب کاری کا نشانہ بنایا ہے۔

ڈپٹی انسپکٹر پولیس کوئٹہ شاہد نظام درانی نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ اس واقعہ کے پس پردہ ان قوتوں کاہاتھ ہے جو بلوچستان میں امن نہیں چاہتے ہیں۔

خیال رہے کہ کوئٹہ میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران تعلیم سے وابستہ افراد کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنانے کا سلسلہ تیز ہوا ہے۔ ان واقعات میں صوبائی وزیر تعلیم شفیق احمد خان اور پروفیسر خورشیداحمد انصاری ہلاک جبکہ بلوچستان اعلیٰ ثانوی بورڈ کے سیکرٹری حامد محمود شدید زخمی ہوئے تھے جو اس وقت بھی زندگی اور موت کے کشمکش میں ہیں۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔