
پشاور میں سوائن فلو کے مریضوں کے لیے خصوصی وارڈ بنایا گیا ہے
صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور کے ایک نجی ہسپتال میں داخل سوائن فلو میں مبتلا افغان خاتون انتقال کر گئی ہے۔
پشاور میں ڈاکٹروں نے جمعہ کو ہی اس مریضہ کے سوائن فلو میں مبتلا میں ہونے کی تصدیق کی تھی۔
نجی ہسپتال کی انتظامیہ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان کے پاس داخل لطیفہ نامی خاتون سوائن فلو میں مبتلا تھی اور سنیچر کی صبح اس مرض سے اس کا انتقال ہو گیا ہے۔ ہسپتال حکام کا کہنا ہے کہ مریضہ کے ورثاء اس کی لاش افغانستان لے گئے ہیں۔
لطیفہ کا تعلق افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند سے ہے اور انہیں چند دن پہلے نجی ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ سوائن فلو پازیٹو ہونے کے بعد انہوں نے خاتون کے نومولود بچے، رشتہ داروں اور ہسپتال کے عملے کے خون کے نمونے بھی حاصل کر لیے ہیں۔
ادھر حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر سلیم خان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ پشاور کے ایک نجی ہسپتال میں زیر علاج ایک افغان خاتون کی سوائن فلو میں مبتلا ہونے کی تصدیق کے بعد احتیاطی تدابیر کے طور پر ہسپتال میں دس بستروں پر مشتمل ایک وارڈ سوائن فلو میں مبتلا افراد کے لیے مختص کر دیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ اکتیس اکتوبر کو عالمی ادارۂ صحت نے کہا تھا کہ پچیس اکتوبر تک دنیا بھر میں سوائن فلو سے مرنے والوں کی تعداد پانچ ہزار تھی جو اب بڑھ کر سات ہزار ہو چکی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت خبردار کرتا رہا ہے کہ موسم سرما کے شروع ہوتے ہی سوائن فلو تیزی سے پھیلےگا اور اس سے ہزاروں افراد ہلاک ہو سکتے ہیں۔ جن ممالک میں سوائن فلو سے مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے وہاں پر موسم سرما کا آغاز ہو چکا ہے۔
© MMIX