Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Saturday, 7 november, 2009, 09:47 GMT 14:47 PST

کوہاٹ:یونیورسٹی کے وائس چانسلر اغواء

درہ آدم خیل

درہ آدم خیل میں ماضی میں بھی اغواء کے واقعات پیش آئے ہیں

پشاور میں اساتذہ نے صوبہ سرحد کے نیم قبائلی علاقے درہ آدم خیل سے کوہاٹ یونیورسٹی آف انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی کے وائس چانسلر کے اغواء اور بلوچستان اور باجوڑ ایجنسی میں اساتذہ کے قتل کے خلاف احتجاجی مظاہر ہ کیا ہے۔

وائس چانسلر لطف اللہ کا کا خیل کو جمعہ کی شام پشاور جاتے ہوئے درہ آدم خیل کے علاقے اخوروال سے نامعلوم مسلح افراد نے اغواء کر لیا تھا۔

کوہاٹ یونیورسٹی آف انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی کے ترجمان مراد علی نے بی بی سی کو بتایا کہ اغواء کاروں نے وائس چانسلر کے ڈرائیور اورگاڑی میں سوار اسسٹنٹ ڈائریکٹر نادر سرفراز کو تھوڑی دیر بعد چھوڑ دیا تاہم وہ وائس چانسلر کو اپنے ساتھ لے گئے۔ ان کے مطابق لطف اللہ کاکا خیل کا تعلق نوشہرہ سے ہے اور وہ پشاور میں مستقل طور پر رہائش پذیر ہیں۔

ترجمان کے مطابق لطف اللہ کا کا خیل کا تقرر ڈھائی سال قبل ہوا تھا اور وہ روزانہ سرکاری گاڑی میں کوہاٹ آتے جاتے ہیں اور اکثر دیر سے پشاور جانے سے احتراز کرتے تھے تاہم جمعہ کو وہ ذرا دیر سے نکلے تھے۔

ان کے اغواء اور بلوچستان یونیورسٹی کے پروفیسر خورشید انصاری اور باجوڑ ایجنسی میں دو خواتین اساتذہ کے قتل کے خلاف پشاور یونیورسٹی کی اساتذہ کی تنظم نے سنیچر کو ایک احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔

مظاہرے میں خواتین اور مرد اساتذہ نے شرکت کی اور اس موقع پر انہوں نے وائس چانسلر کی بازیابی اور اساتذہ کے قتل کے ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پیوٹا کے صدر پروفیسر ارباب آفریدی کا کہنا تھا کہ تخریبی عناصر ایسی حرکات کرکے ملک میں تعلیمی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔