
طالبان اپنے زیر کنٹرول علاقوں سے ایک ایک کر کے پسپائی اختیار کر رہے ہیں
پانچ سال تک’ نو گو ایریا‘ رہنے کے بعد طالبان کے زیر کنٹرول جنوبی وزیرستان نے بالاخر اپنی یہ حیثیت گنوادی اور محض تین ہفتوں میں پاکستانی فوج نے قدرے آسانی کے ساتھ طالبان سے نوے فیصد سے زیادہ علاقہ واپس لے لیا۔
یہ سمجھا جاتا رہا تھا کہ جنوبی وزیرستان کی فوجی کاروائی اب تک ہونے والی کاروائیوں میں ہر لحاظ سے مشکل ترین ہوگی لیکن کارروائی کے آغاز کے ساتھ ہی طالبان کی ’طاقت‘ جھاگ کی طرح بیٹھتی ہوئی نظر آئی۔
اب تک ہونے والے آپریشن کے دوران مزاحمت نہ ہونے کے برابر ہے اور سکیورٹی فورسز بلا کسی رکاوٹ کے طالبان کے گڑھ سمجھے جانے والے علاقوں کی طرف کچھ اسی رفتار سے آگے بڑھ رہی ہیں جس رفتار سے کوئی انسان فطری طور پر آگے بڑھ سکتا ہے۔ بعض اوقات تو یوں لگتا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں فوجی کاروائی نہیں بلکہ فوجی مشقیں جاری ہیں۔ایسا کیوں؟
اس کیوں کے کئی جوابات ہوسکتے ہیں۔پہلی بات تو یہ ہے کہ جنوبی وزیرستان میں فوجی کارروائی کا اعلان اس سال مئی میں ہوا تھا اور آپریشن شروع سترہ اکتوبر کو ہوا یعنی طالبان اور غیر ملکی جنگجوؤں کو تقریباً پانچ ماہ کا وقت دے دیا گیا کہ وہ یا تو بھر پور مزاحمت کے لیے تیار ہو جائیں یا پھر اپنا بوریا بستر گول کر کے کہیں اور منتقل ہوجائیں۔
ہوا ایسا ہی۔ اس بار تو یہ بات طے تھی حکومت کارروائی کو اپنی منطقی انجام تک پہنچائے گی لہذا شدت پسندوں کے لیے مزاحمت کی حکمت عملی خودکشی کے مترادف معلوم ہورہی تھی۔ لہذا انہوں نے علاقے خالی کرنے کی حکمت عملی کو ترجیح دی جس کے فوائد ان کی نظر میں کم جبکہ نقصانات زیادہ تھے۔ ماضی میں جنوبی وزیرستان میں جب بھی کوئی کارروائی ہوئی ہے اس وقت جنگجوؤں کے پاس’ مرو یا مارو‘ کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں تھا لیکن اس بار صورتحال بہت مختلف تھی۔
وزیرستان کے محسود جنگجوؤں نےگزشتہ دو سالوں میں اپنے علاقوں سے نکل کر دیگر قبائلی علاقوں میں اپنی جڑیں اتنی مضبوط کر لی ہیں کہ مصیبت کے وقت انہیں کوئی اکھاڑ کر اتنی آسانی سے زمین پر پٹخ نہیں سکتا۔ خیبر، باجوڑ، مہمند، کرم اور اورکزئی ایجنسی میں محسود طالبان نے مقامی طالبان کے ساتھ مل کر اپنی قوت میں اضافہ کیا ہے اور فیصلوں کا اختیار بھی اپنے پاس رکھا۔ فوجی کارروائی سے قبل ان پانچ مہینوں میں وزیرستان کے طالبان نے اپنے زیر کنٹرول دیگر علاقوں کی طرف اپنے اہل خانہ کو منتقل کردیا جبکہ خود جنوبی وزیرستان میں ہی رہ گئے تاکہ وقت آنے پر وہاں سے نکل سکیں۔
تین ہفتوں کی فوجی کارروائی میں طالبان اپنے زیر کنٹرول علاقوں سے ایک ایک کر کے پسپائی اختیار کر رہے ہیں۔ بعض مقامات پر انہوں نے علامتی مزاحمت کا مظاہرہ بھی کیا جس میں انہیں جانی نقصان بھی پہنچا مگر اتنا بھی نہیں جتنا حکومت کی طرف سے دعوی کیا جا رہا ہے۔
طالبان نے پسپائی سے تین فائدے حاصل کیے۔ ایک تو انہوں نے اپنا اسلحہ محفوظ کر دیا دوسری اپنی افرادی قوت میں کمی نہیں آنے دی اور تیسرا یہ کہ ان کی قیادت بڑے آرام سے’کہیں اور‘ منتقل ہوگئی۔ طالبان کے کمزور نہ ہونے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ جنوبی وزیرستان کے نوے فیصد سے زیادہ علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد بھی ملک کے دیگر بڑے شہروں پشاور، راولپنڈی اور اسلام آباد میں خودکش حملوں، بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ نہیں رکا۔
آپریشن کے دوران اب تک کی کارروائی کو دیکھ کر ان شکوک و شبہات کو تقویت ملتی دکھائی دیتی ہے کہ کارروائی سے قبل ہی فریقین کے درمیان ایک خفیہ مفاہمت ہوچکی تھی تاکہ فریقین ’لوز لوز‘ کی پوزیشن میں نہ رہیں اور جہاں حکومت کو طالبان کے زیر کنٹرول اپنی زمین واپس مل جائے وہیں طالبان کی افرادی قوت، تنظیمی ساخت اور اسلحہ اپنی جگہ محفوظ رہے۔
© MMIX