Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Saturday, 7 november, 2009, 07:19 GMT 12:19 PST

سی این جی اسوسی ایشن: ہڑتال کا اعلان

سی این جی سٹیشن

غیاث عبداللہ پراچہ نے مطالبہ کیا کہ حکومت اپنا یہ فیصلہ واپس لے

آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن نے اعلان کیا ہے کہ وہ ہفتے میں دو دن سی این جی سٹیشن بند کرنے کے حکومتی فیصلے کے خلاف مرحلہ وار ہڑتال کریں گے۔

ایسوسی ایشن کے چیئرمین غیاث عبداللہ پراچہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جمعہ کو اسلام آباد میں ان کی تنظیم کا اجلاس ہوا جس میں مشترکہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ پہلے مرحلے میں اٹک سے لے کر جہلم تک تمام شہروں میں سی این جی سٹیشن نو نومبر اور دس نومبر کی درمیانی شب بارہ بجے سے اگلے چوبیس گھنٹوں کے لیے بند رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگلے مرحلے میں پشاور اور پنجاب کے بقیہ شہروں میں ہڑتال ہو گی لیکن اس کی تاریخ کا فیصلہ سنیچر کو لاہور میں کیے جانے والے اجلاس میں کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا یہ تاریخ بھی پندرہ نومبر سے پہلے ہوگی۔

غیاث پراچہ کا کہنا تھا کہ ہم اس مرحلہ وار ہڑتال سے حکومت کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ سی این جی سٹیشن بند ہونے سے کیسے پہیہ جام ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے اس کے باوجود بھی اپنا فیصلہ نہ تبدیل کیا تو وہ پندرہ نومبر کے بعد غیر معینہ مدت کے لیے ہڑتال کریں گے اور تمام شہروں کے سی این جی سٹیشن بند کر دیے جائیں گے۔

غیاث عبداللہ پراچہ نے مطالبہ کیا کہ حکومت ناصرف اپنا یہ فیصلہ واپس لے بلکہ ایسوسی ایشن سے مشاورت کے بعد سی این جی کی صنعت کے لیے واضح پالیسی کا بھی اعلان کرے۔

غیاث پراچہ نے الزام لگایا کہ کچھ مخصوص افراد کی صنعتوں کو گیس کی فراہمی بحال رکھنے کے لیے سی این جی سٹیشن پر گیس کی دو دن کے لیے کٹوتی کی جا رہی ہے حالانکہ قوائد کے مطابق کئی برسوں سے موسم سرما کے تین ماہ تمام صنعتوں کو گیس کی فراہمی معطل کر دی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے حکومت کو کیا فائدہ ملے گا۔ سی این جی کی صنعت سے حکومت کو ٹیکس کی مد میں اربوں روپے ملتے ہیں اس میں کمی ہوگی اور سی این جی کی بجائے جب لوگ پٹرول استعمال کریں گے تو اس سے مزید زر مبادلہ خرچ کرنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ الزام لگاتے ہوئے کہا کہ حکومت سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کچھ لوگوں کو فائدہ دینے کے لیے سی این جی کی صنعت ختم کرنا چاہتی ہے۔ اس صنعت میں نا صرف کھربوں روپے کی سرمایہ کاری ہو چکی ہے بلکہ بے شمار افراد کا روز گار وابستہ ہے جبکہ اس سے ایک عام آدمی کو اپنی گاڑی کے لیے جو سستا ایندھن ملتا ہے اس سے بھی وہ محروم ہو جائے گا۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔