Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Sunday, 8 november, 2009, 05:48 GMT 10:48 PST

پشاور:خودکش حملے میں تیرہ افراد ہلاک

پشاور دھماکہ

دھماکہ شہر سے پچیس کلومیٹر دور متنی کے علاقے ادیزئی میں کیا گیا

صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں ایک خودکش حملہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں حکام کے مطابق تیرہ افراد ہلاک اور پچیس زخمی ہوگئے ہیں۔ دھماکے میں متعدد گاڑیاں بھی تباہ ہوگئی ہیں۔

متنی سے پولیس اہلکار ہارون نے بی بی سی کو بتایا کہ اتوار کی صبح شہر سے پچیس کلومیٹر دور متنی کے علاقے ادیزئی میں ایک خودکش حملہ آور نے علاقے کے ناظم عبدالمالک پراس وقت حملہ کیا جب وہ اپنے گھر سے شہر کی طرف جا رہے تھے۔ پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ دھماکے میں ناظم عبدالمالک شدید زخمی ہوگئے تھے لیکن بعد میں زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسے۔

انہوں نے بتایا کہ خودکش حملہ آور ایک مزدہ گاڑی میں آیا اور ان کے ساتھ پانچ افراد اور بھی مزدہ میں سوار تھے۔ پولیس اہلکار کے مطابق خودکش حملہ آور گاڑی سے اُترتے ہی عبدالمالک کی جانب بڑھا اور ان سے گلے ملتے ہوئے دھماکہ کردیا۔

ایک پولیس افسر ریاض خان نے بتایا ہے کہ خودکش حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد تیرہ ہو گئی ہے اور پچیس افراد زخمی ہیں۔

اس حملے کی ذمہ داری خود کوتحریک طالبان پاکستان ادیزئی کے ترجمان ظاہر کرنے والے عمر نے قبول کی ہے۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ناظم عبدالمالک نے طالبان کے خلاف لشکر بنایا تھا اس لیے طالبان نے ان پر خودکش حملہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ عبدالمالک یونین کونسل ادیزئی کے ناظم تھے اس سے پہلے بھی ان پر تین مرتبہ حملے ہوچکے ہیں۔ انہوں نے طالبان کے خلاف ایک لشکر بھی تشکیل دیا تھا۔ اس کے بعد سے وہ طالبان کی جانب سے خطرہ محسوس کر رہے تھے۔ طالبان مخالف ناظم پر خودکش حملہ ایک ایسے موقع پر ہوا ہے جب جنوبی وزیرستان میں بیت اللہ گروپ کے مقامی طالبان کے خلاف سکیورٹی فورسز کا آپریشن آخری مراحل میں ہے۔

پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ واقعہ کے بعد پولیس کی بھاری نفری علاقے میں پہنچ گئی ہے اور پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔انہوں نے کہا کہ امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور لاشوں اور زخمیوں کو ہسپتال پہنچایا جا رہا ہے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔