Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Friday, 6 november, 2009, 11:12 GMT 16:12 PST

پشاور میں سوائن فلو کی تصدیق

سوائن فلو فائل فوٹو

مریضہ کا تعلق افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند سے ہے

صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں ڈاکٹروں نے سوائن فلو کے پہلے کیس کے سامنے آنے کی تصدیق کی ہے۔

حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر سلیم خان نے بی بی سی کو بتایا کہ پشاور کے ایک نجی ہسپتال میں زیر علاج ایک افغان خاتون کی سوائن فلو میں مبتلا ہونے کی ابتدائی طور پر تصدیق ہوگئی ہے۔ ان کے بقول خاتون میں سوائن فلو کے علامات ظاہر ہونے کے بعد انہوں نے ان کے خون کا نمونہ حاصل کرکے نیشنل لیبارٹری اسلام آباد بھیج دیا تھا جہاں سے اب انہیں یہ اطلاع دی گئی ہے کہ خاتون کو سوائن فلو کا مرض لاحق ہے۔ تاہم بقول ان کے انہیں باقاعدہ سرکاری رپورٹ تحریری صورت میں بہت جلد مل جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے احتیاطی تدابیر کے طور پر ہسپتال میں دس بستروں پر مشتمل ایک وارڈ سوائن فلو میں مبتلا افراد کے لیے مختص کردیا ہے۔

سوائن فلو میں مبتلا خاتون کا نام لطیفہ بتایا جاتا ہے جن کا تعلق افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند سے ہے اور انہیں چند دن پہلے ایک نجی ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ سوائن فلو پازیٹیو ہونے کے بعد انہوں نے خاتون کے نومولود بچے، رشتہ داروں اور ہسپتال کے عملے کے خون کے نمونے بھی حاصل کرلیے ہیں۔

یاد رہے کہ اکتیس اکتوبر کو عالمی ادارہ صحت نے کہا تھا کہ پچیس اکتوبر تک دنیا بھر میں سوائن فلو سے مرنے والوں کی تعداد پانچ ہزار تھی جو بڑھ کر سات ہزار ہوچکی ہے۔

ڈبلیو ایچ او خبردار کرتا رہا ہے کہ موسم سرما کے شروع ہوتے ہی سوائن فلو تیزی سے پھیلےگا اور اس سے ہزاروں افراد ہلاک ہو سکتے ہیں۔ جن ممالک میں سوائن فلو سے مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے وہاں پر موسم سرما کا آغاز ہو چکا ہے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔