
مریضہ کا تعلق افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند سے ہے
صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں ڈاکٹروں نے سوائن فلو کے پہلے کیس کے سامنے آنے کی تصدیق کی ہے۔
حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر سلیم خان نے بی بی سی کو بتایا کہ پشاور کے ایک نجی ہسپتال میں زیر علاج ایک افغان خاتون کی سوائن فلو میں مبتلا ہونے کی ابتدائی طور پر تصدیق ہوگئی ہے۔ ان کے بقول خاتون میں سوائن فلو کے علامات ظاہر ہونے کے بعد انہوں نے ان کے خون کا نمونہ حاصل کرکے نیشنل لیبارٹری اسلام آباد بھیج دیا تھا جہاں سے اب انہیں یہ اطلاع دی گئی ہے کہ خاتون کو سوائن فلو کا مرض لاحق ہے۔ تاہم بقول ان کے انہیں باقاعدہ سرکاری رپورٹ تحریری صورت میں بہت جلد مل جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے احتیاطی تدابیر کے طور پر ہسپتال میں دس بستروں پر مشتمل ایک وارڈ سوائن فلو میں مبتلا افراد کے لیے مختص کردیا ہے۔
سوائن فلو میں مبتلا خاتون کا نام لطیفہ بتایا جاتا ہے جن کا تعلق افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند سے ہے اور انہیں چند دن پہلے ایک نجی ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ سوائن فلو پازیٹیو ہونے کے بعد انہوں نے خاتون کے نومولود بچے، رشتہ داروں اور ہسپتال کے عملے کے خون کے نمونے بھی حاصل کرلیے ہیں۔
یاد رہے کہ اکتیس اکتوبر کو عالمی ادارہ صحت نے کہا تھا کہ پچیس اکتوبر تک دنیا بھر میں سوائن فلو سے مرنے والوں کی تعداد پانچ ہزار تھی جو بڑھ کر سات ہزار ہوچکی ہے۔
ڈبلیو ایچ او خبردار کرتا رہا ہے کہ موسم سرما کے شروع ہوتے ہی سوائن فلو تیزی سے پھیلےگا اور اس سے ہزاروں افراد ہلاک ہو سکتے ہیں۔ جن ممالک میں سوائن فلو سے مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے وہاں پر موسم سرما کا آغاز ہو چکا ہے۔
© MMIX