
دہشت گردی ایک عالمی اور علاقائی مسئلہ ہے:عبدالباسط
پاکستان کی وزارت خارجہ نے بھارت سے کہا ہے کہ وہ پاکستان پر الزامات عائد کرنے کی بجائے علاقے میں دہشت گردوں کی سرپرستی اور امداد سے متعلق اپنے کردار کی وضاحت کرے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالباسط کی جانب سے جمعرات کو رات گئے جاری کیا گیا یہ بیان بھارتی سیکرٹری خارجہ کے اس بیان کا ردعمل ہے جس میں انہوں نے بین الاقوامی برادری سے کہا ہے کہ وہ دہشت گردوں سے نمٹے کے لیے پاکستان پر اپنی ذمہ داری نبھانے کے لیے دباؤ ڈالے۔
ترجمان کا موقف تھا کہ بین الاقوامی برادری دہشت گردی سے نمٹنے سے متعلق پاکستانی کردار کی پہلے سے معترف ہے اور ’دہشت گردی ایک عالمی اور علاقائی مسئلہ ہے‘۔ تاہم ترجمان کا اصرار تھا کہ ’بھارت خود اس خطے میں اپنے دہشت گردی اور شدت پسندی کی سرپرستی اور مدد سے متعلق کردار کی وضاحت کرے‘۔ تاہم بیان میں اس خطے کی وضاحت نہیں کی گئی کہ اس سے مراد بلوچستان ہے یا پھر افغانستان۔
بھارت خود اس خطے میں اپنے دہشت گردی اور شدت پسندی کی سرپرستی اور مدد سے متعلق کردار کی وضاحت کرے
پاکستانی وزارتِ خارجہ
اس سے قبل بھارت کے وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے پاکستان کے ان الزمات کو مسترد کر دیا تھا کہ بھارت وزیرستان میں سرگرم شدت پسندوں کی مدد کر رہا ہے۔ ایس ایم کرشنا کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جو بھی کچھ ہورہا ہے وہ ’خود ان کے کرتوت کا نتیجہ ہے‘ اور وہاں موثر حکومت کا فقدان ہے۔
انہوں نے یہ بات پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس کے اس بیان کے بعد کہی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ شیر ونگئی کے علاقے سے پاکستانی فوج نے بھارتی ساخت کے ہتھیار، دھماکہ خیز مواداور بھارتی لٹریچر بر آمد کیا ہے۔ فوجی ترجمان نے کہا تھا کہ فوجی آپریشن کے دوران جو بھارتی ہتھیار اور مواد پکڑا گیا ہے، اس کے بارے میں دفتر خارجہ کو آگاہ کر دیا گیا ہے اور اب یہ دفترِخارجہ کا کام ہے کہ وہ کس طرح دوسری حکومتوں کے ساتھ معاملہ اٹھاتی ہے۔
اس سلسلے میں بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے خبر رساں ادارے پی ٹی آئی سے بات چیت میں کہا کہ ’جو بھی کچھ بلوچستان یا پاکستان کے اندر ہورہا ہے اس سے ہمارا کچھ بھی لینا دینا نہیں ہے۔ میرے خیال سے یہ سب ان کا خود کا کیا دھرا ہے‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی نظر میں وہاں کوئی موثر حکومت کام ہی نہیں کر رہی ہے۔
© MMIX